شام نے ایک اور امریکی فوجی اڈا سنبھال لیا، خطے میں بڑی تبدیلی؟

یہ اڈہ صوبہ حسکہ کے نواحی علاقے میں واقع ہے جہاں امریکی افواج داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے تحت تعینات تھیں

دمشق: شام کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ شامی فوج نے شمال مشرقی علاقے میں واقع الشدادی فوجی اڈے کا کنٹرول امریکی افواج سے سنبھال لیا ہے۔

وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق الشدادی بیس کا کنٹرول امریکی حکام سے رابطے اور ہم آہنگی کے بعد شامی عرب فوج کے حوالے کیا گیا۔

یہ اڈہ صوبہ حسکہ کے نواحی علاقے میں واقع ہے جہاں امریکی افواج داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے تحت تعینات تھیں۔

چند روز قبل امریکا نے تصدیق کی تھی کہ اس کی افواج نے شام، اردن اور عراق کی سرحد کے قریب واقع التنف اڈہ بھی خالی کر دیا ہے۔

ماضی میں ایس ڈی ایف امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد کی اہم اتحادی رہی ہیں اور 2019 میں داعش کی علاقائی شکست میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

تاہم دسمبر 2024 میں سابق صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد امریکا نے دمشق کی نئی حکومت سے تعلقات بہتر بنائے ہیں۔

ادھرسینٹ کام نے بتایا ہے کہ اس ماہ 3 سے 12 فروری کے درمیان شام میں داعش کے 30 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخائر شامل تھے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن شام کی موجودہ پیش رفت سے مطمئن ہے، تاہم کرد اقلیت اور دیگر گروہوں کے ساتھ معاہدوں پر عملدرآمد آسان نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شام جیسے متنوع معاشرے میں دروز، بدو اور علوی برادریوں سمیت مختلف عناصر کے ساتھ سیاسی مفاہمت ضروری ہے۔

Load Next Story