بجلی کی قیمت میں 43 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان

نیپرا میں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے بجلی کی قیمت میں 43 پیسے فی یونٹ اضافے پر سماعت ہوئی

نیپرا میں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے بجلی کی قیمت میں 43 پیسے فی یونٹ اضافے پر سماعت ہوئی، چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی سربراہی میں اتھارٹی نے سماعت کی۔

منظوری کی صورت میں صارفین پر 10 ارب سے زائد کا بوجھ پڑے گا، کپیسٹی پے منٹس کی ادائیگی کے لیے سی پی پی اے ہر تین ماہ بعد درخواست دائر کرتی ہے، قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا، مجموعی طور پر 17 ارب روپے کا بوجھ پڑنا تھا۔

تاہم حکومت کی انکریمنٹل پیکج سے 7 ارب روپے کی کمی ہوئی اور اب صارفین پر 10 ارب 76 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔

سماعت کے دوران صارفین نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انکریمنٹل پیکج سے بعض صنعتوں کو فائدہ اور بعض کو نقصان ہو رہا ہے، فرنس آئل پر چلنے والی انڈسٹری کو 22 روپے تک یونٹ مل رہی ہے اور پیکج میں شیئر کیے گئے اعداد و شمار درست نہیں۔

صارفین نے نیپرا سے سی پی پی اے کے اعداد و شمار کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا، سی پی پی اے حکام کے مطابق کوارٹر ایڈجسٹمنٹ کے لیے 431 ارب روپے کپیسٹی پے منٹس کی مد میں درکار ہیں جبکہ گزشتہ سال ڈسکوز کو 459 ارب روپے کی ضرورت تھی۔

سی پی پی اے نے بتایا کہ مستقبل میں فرنس آئل کے پاور پلانٹس نہیں چلائے جائیں گے، نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی اور اتھارٹی اعداد و شمار کا جائزہ لے کر فیصلہ جاری کرے گی۔

Load Next Story