مسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے والے ایف آئی اے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

ایف آئی اے امیگریشن اہلکاروں کا ایک ہفتے کے دوران 12 ایسے مسافروں کو رقوم لیکر کلئیر کرنے بھی انکشاف ۔

نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن عملے کی مبینہ ملی بھگت سے تارکین وطن کو رشوت لیکر غیر قانونی طور پر بیرون ممالک و  یورپ بیجھوانے کے لیے سہولت کاری و  انسانی سمگلنگ  کے میگا سکینڈل کا انکشاف ہوا۔

چار مسافروں سے رشوت کے عوض امیگریشن کلئیر کرنے کے الزامات پر ایف آئی اے امیگریشن کے افسر محمد عالم ،ایف سی انضمام الحق اور زون میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کو گرفتار کرکے رشوت ستانی و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا۔

حکام کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور ڈائریکٹر ایف ایک اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کو خفیہ ذرائع سے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن اہلکاروں کے غیر قانونی سرگرمیوں و انسانی اسمگلروں سے روابط کی اطلاع ملی۔

 جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد شہزاد ندیم بخاری اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل  امیگریشن نے خود نگرانی کرتے ہویے  تحیقیقات  شروع کیں توالزامات سچ نکلنے۔

الزامات سچ ہونے پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر افضل خان نیازی کی سربراہی میں ٹیم نے چھاپہ مارا اور آئی ائی اے امیگریشن کے اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور زونل آفس میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا جس میں رشوت لیکر باہر بھجوائے گئے 4 مسافروں کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے حکام کی جانب سے سے درج مقدمے میں موقف اختیار کیاگیا کہ اطلاع موصول ہوئی کہ عمرہ ویزہ پر سفر کرنے والے  چند  مسافر یورپ جانے کے لیے غیر قانونی طور پر سمندری راستے کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

اطلاع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر امیگریشن اور ڈائریکٹر اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کی ٹیم نے اسلام آباد سے دمام اور سعودی عرب جانے والی پرواز  کے دوران چھاپہ مارا تو پرواز پر پشاور سے تعلق رکھنے والے مسافر کامران خان اور  زیاد خان ،باجوڑ سے تعلق رکھنے والے محمد شعیب  اور  یاسین خان امیگریشن کاؤنٹر سے کلیرینس پاکر طیارے میں سوار ہونے کے لیے ویٹنگ لاونج میں تیار تھے۔

متن مقدمہ  کے مطابق جہاں چھاپہ مار کر چاروں مسافروں کو آف لوڈ کرکے پوچھ گچھ کی گی، انکوائری  کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ تمام مسافر عمرہ ویزوں پر سعودی عرب جا رہے تھے اور کاؤنٹر کے اہلکار انضمام الحق (ایف سی) نے انہیں مزید جانچ پڑتال کے لیے سیکنڈ لائن افسران کے حوالے کیے بغیر کلیئر کیا۔

مزید انکشاف ہوا کہ مسافر عمرہ ویزہ (سنگل انٹری کیٹیگری) پر سفر کر رہے تھے جبکہ امیگریشن کے دوران مسافروں کے لیے یہ غلط تاثر پیدا کرنا کہ وہ دوبارہ سعودی عرب میں داخل ہو رہے ہیں۔

ایس او پی کے مطابق مسافر لو پروفائل تھے جنکی  پروفائل ایل ایل کے تحت سیکنڈ لائن آفیسر کے حوالے کرکے دوبارہ پروفائلنگ ضروری تھی،

 مسافروں نے پوچھ گچھ کے دوران انکشاف کیا کہ ان سے  یونس خان نامی ایجنٹ نے رابطہ کرکے سعودی عرب، مصر، لیبیا  کے راستے یورپ میں  داخلے کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

مسافروں نے مزید انکشاف کیا کہ بورڈنگ پاسز کے اجراء کے بعد ایجنٹوں نے انہیں خاص طور پر ہدایت کی کہ وہ کلیئرنس کے لیے امیگریشن کاؤنٹر نمبر 13 جہاں انضمام الحق ایف سی  تعینات ہوگا اُس پر جائیں تاکہ مزید جانچ پڑتال اور پروفائلنگ سے بچا جا سکے۔

متن مقدمہ کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن اہلکار انضمام الحق نے انکشاف کیا کہ اے ایس آئی محمد عالم  جو ایئرپورٹ پر ہی امیگریشن شفٹ اے اراییول میں بطور کاؤنٹر اہلکار تعینات ہیں۔ اُس کے کہنے پر کلئیر کیا،

امیگریشن اہلکاروں انضمام الحق (ایف سی ) اور اے ایس آئی  محمد عالم کو مسافروں سمیت تحویل میں لیکر  قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل اسلام آباد کے حوالے کردیا۔

کارروائی کے دوران مسافروں کے چار موبائل فون بھی تحویل میں لے لیے گیے۔

ادھر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی ابتدائی تفتیش میں امیگریشن کاؤنٹر پر تعینات اہلکار  ایف سی محمد انضمام الحق کے ہوش ربا انکشاف سامنے آئے ہیں جسکے مطابق امیگریشن اہلکار انظمام الحق نے بتایا کہ اس سے امیگریشن اراییول کے  اے ایس آئی محمد عالم نے  چار مسافروں کو 30 ہزار روپے فی مسافر کے عوض کلیئر کرنے کے لیے کہا جبکہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن میں تعینات اے ایس آئی محمد عالم نے انکشاف کیا کہ اس سے ایف آئی اے اسلام آباد زون میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل نے رابطہ کیا اور چاروں مسافروں کی  کلیرینس 80 ہزار روپے فی مسافر میں ڈیل طے کی۔

  اے ایس آئی محمد عالم نے مزید انکشاف کیا کہ ہیڈکانسٹیبل محمد اسماعیل نے  ایجنٹ کے ساتھ یہ ڈیل 15 لاکھ روپے میں طے کی اور  محمد اسماعیل کے ساتھ ملکر  ایک ہفتے میں اس سے پہلے 12 مسافروں کو کلیئر کیا۔

ان 12  مسافروں کو بھی اسی امیگریشن  اہلکار انظمام الحق ایف سی نے 30 ہزار فی مسافر نقد لے کر کلیئر کیا۔

ایف آئی آر میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل نے اے ایس آئی محمد عالم کو لاکھوں روپے دیے جبکہ ساڑھے پانچ لاکھ اسکی جانب بقایا ہے اور ایجنٹ ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل سے براہ راست رابطے میں تھا۔

حکام کا کہنا  ہے کہ امیگریشن اہلکاروں ایف سی انضمام الحق اور اے ایس آئی محمد عالم  سمیت زون میں تعینات ایف آئی اے کے ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کے خلاف رشوت ستانی و انسانی سمگلنگ میں سہولت کاری وغیرہ کے جرم میں مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ انسانی سمگلنگ کے حوالے سے انسداد انسانی سمگلنگ سیل نے بھی ملزمان کے خلاف الگ سے  کاروائی شروع کردی اور تفتیش کے دوران مزید انکشافات کی توقع ہے۔

ادھر  ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کا کہناتھاکہ ایف آئی اے میں کالی بھیڑوں کی کوئی گنجائش نہیں، غیرقانونی کاموں کو  کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔

متعلقہ

Load Next Story