لاہور ہائیکورٹ کا یتیم پوتوں کے نان نفقہ سے متعلق اہم حکم جاری

عدالت نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس ازسرنوسماعت کے لیے ٹرائل کورٹ واپس بھیج دیا

لاہور ہائیکورٹ نے دادا کی جائیداد سے بچوں کی کفالت کے معاملے پر قانونی پوزیشن واضح کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دادا کی وفات کے بعد اس کی جائیداد سے بچوں کی کفالت کا حق ختم نہیں ہو جاتا۔ بچوں کے نان نفقہ کی ذمہ داری صرف باپ تک محدود نہیں۔

عدالت نے کہا کہ دادا نے عدالتی حکم پر بچوں کو عبوری خرچہ دے کر اپنی ذمہ داری کا اعتراف کیا تھا۔ حالات کے مطابق بچوں کےنان ونفقہ کافیصلہ ہوگا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فیملی ایکٹ کے تحت بچوں کی کفالت کا دائرہ کار محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس ازسرنوسماعت کے لیے ٹرائل کورٹ واپس بھیج دیا اور کہا کہ ٹرائل کورٹ مزید شہادتیں لےکرازسرنوکیس کافیصلہ کرے۔

عدالت نے کہا کہ دادا کی جائیداد منتقلی اور اس کے قانونی وارثوں کی ذمہ داریوں کا ازسرنو تعین ضروری ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نےتحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت کا تحریری فیصلہ 4 صفحات پر مشتمل ہے۔ عدالت نے بچوں کےچچا محمد سعید کی درخواست کا فیصلہ سنایا۔ درخواست گزاربچوں کا چچا ہے اس پران بچوں کےخرچے کی ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی۔

ورثا کا موقف تھا کہ بچوں کا دادا ایک خوشحال شخص تھا جس نے زندگی میں بچوں کا خرچہ خود اٹھایا۔

Load Next Story