الزائمرز کی علامات کی تشخیص کیلئے خون کا نیا ٹیسٹ تیار

یہ پیشرفت احتیاطی علاج کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے

سائنس دانوں نے ایک نیا خون کا ٹیسٹ تیار کیا ہے جو یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ کسی شخص میں الزائمر کی علامات کب ظاہر ہونے کا امکان ہے۔ یہ پیشرفت احتیاطی علاج کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً 5 کروڑ 50 لاکھ افراد ڈیمنشیا کا شکار ہیں، جن میں 60 سے 70 فی صد کیسز الزائمر کے ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد ہر بیس سال میں دگنی ہو جائے گی اور 2050 تک تقریباً 14 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

چونکہ اس بیماری کا ابھی تک کوئی مکمل علاج موجود نہیں، اس لیے ایسے پیشگوئی کرنے والے ماڈلز بیماری کے خطرات سے دوچار افراد میں بیماری کی علامات کو روکنے یا سست کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق خون کے ٹیسٹ پر مبنی نیا ماڈل تین سے چار سال کے دورانیے میں الزائمر کی علامات کے آغاز کی پیش گوئی کر سکتا ہے۔

تحقیق کی مصنفہ سوزین شِنڈلر کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ خون کے ٹیسٹ (جو دماغی اسکین یا ریڑھ کی ہڈی کے فلوئیڈ کے ٹیسٹ کے مقابلے میں کہیں سستے اور آسانی سے دستیاب ہیں) الزائمر کی علامات کے آغاز کی پیشگوئی کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی۔

Load Next Story