پاک فوج افغان سرحد پر بھرپور اور مؤثر جواب دے رہی ہے اور آئندہ بھی دے گی، عطاء اللہ تارڑ
عطاء اللہ تارڑ نے پاک-افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کے حوالے سے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور آئندہ بھی دیا جاتا رہے گا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے جھوٹا اور بے بنیاد پراپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں جبکہ خوش فہمیوں پر مبنی افواہیں عملی میدان میں شکست کے بعد خفت مٹانے کیلئے پھیلائی جا رہی ہیں۔
افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان افغانستان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کی کاروائیوں کا بھرپور و مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور جاتا رہے گا.
افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جھوٹا و بے بنیاد پرپیگینڈا کیا جارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں.
خوش فہمیوں پر…— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 26, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان طالبان رجیم کو جھوٹ کے پیچھے چھپنے نہیں دے گا اور پاکستان کی پیشہ ورانہ افواج حملہ آوروں کے عزائم کو خاک میں ملا رہی ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق مصدقہ اطلاعات کے تحت پاک فوج کی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 36 کارندے ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے دو جوان شہادت کے مرتبے پر فائز اور تین زخمی ہوئے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان نے حالیہ دنوں خطے خصوصاً ملک میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے فتنہ الخوارج دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جبکہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے سرحدی علاقوں میں فائرنگ دہشتگردوں کی پشت پناہی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ماضی کی پسپائیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے ہر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جاتا رہے گا۔
علاوہ ازیں عطاء اللہ تارڑ نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا، جس کا پاکستان کی مسلح افواج نے انتہائی مستعدی اور مضبوط انداز میں جواب دیا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستانی افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے مادرِ وطن کا دفاع یقینی بنایا اور جوابی کارروائی میں افغان طالبان کو پسپا کر دیا، جس کے باعث وہ بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مربوط اور مضبوط ردعمل کے بعد افغان طالبان سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے، جبکہ ایک بین الاقوامی نیوز چینل کو بھی اپنی پوسٹ حذف کرنا پڑی۔
عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ کارروائیوں کے دوران 72 افغان طالبان ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ 16 پوسٹیں تباہ اور 7 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ ایک بڑا اسلحہ ڈپو اور بٹالین ہیڈکوارٹر تباہ کیا گیا، جبکہ 36 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور آرمڈ پرسنز کیریئرز (اے پی سیز) بھی تباہ کیے گئے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان کے قندھار، کابل اور پکتیا میں دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جہاں قندھار میں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹر اور کابل میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت یا مذموم عزائم سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کے بروقت اور جراتمندانہ ردعمل کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان میں حملوں کیلئے استعمال ناقابل قبول ہے اور بلا اشتعال جارحیت کا اسی انداز میں جواب دیا جاتا رہے گا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان سرزمین پر تربیت حاصل کرنے والے دہشت گرد پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث ہیں، جبکہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔