قومی مالیاتی کمیشن میں ٹیکس وصولی سے متعلق اعداد و شمار پیش

جی ایس ٹی کی وصولی صوبوں کے سپرد کی جائے تاکہ صوبے خود بہتر ریونیو حاصل کرسکیں، حکومت سندھ

حکومتِ سندھ نے جنرل سیلز ٹیکس ( جی ایس ٹی) کی وصولی سے متعلق اعداد و شمار قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کو پیش کیے جس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ٹیکس جمع کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے تاہم ایف بی آر اس سے بہت کم وصولی کرپاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اشیا پر جی ایس ٹی کی کل گنجائش تقریبا 110 کھرب روپے سالانہ ہے جبکہ ایف بی فی الحال صرف 16 کھرب روپے سالانہ جمع کیے۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں اشیا کی مجموعی مالیت تقریباً 640 کھرب روپے ہے اور 18٪ جی ایس ٹی کے مطابق محصولات 160 کھرب روپے تک بن سکتے ہیں لیکن حقیقت میں ایف بی آر بہت کم وصولی کر رہا ہے۔

سندھ حکومت اس بنیاد پر وفاق سے مطالبہ کر رہی ہے کہ جی ایس ٹی کی وصولی صوبوں کے سپرد کی جائے تاکہ صوبے خود بہتر ریونیو حاصل کرسکیں، خاص طور پر کراچی جیسے بڑے صنعتی و تجارتی مرکز سے۔

110 کھرب روپے جی ایس ٹی جمع کرنے کی صلاحیت اور صرف 16 کھرب روپے کی وصولی کے اعداد و شمار حکومتِ سندھ نے این ایف سی فورم میں پیش کیے ہیں۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بہت بڑا فرق ملک کی ٹیکس انتظامیہ میں خامیوں یا لیکیج کی علامت ہے۔

Load Next Story