آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر شوبز انڈسٹری غم سے نڈھال

پاکستانی عوام اور شوبز شخصیات نے علی خامنہ ای کی شہادت کو مسلم امہ کیلئے بڑا نقصان قرار دیا

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی نامور شخصیات نے امریکا واسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایرانی سُپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ 

ایران کے سپریم لیڈر کی 86 برس کی عمر میں شہادت پر دنیا بھر میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے جب کہ پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ شوبز سے وابستہ شخصیات نے بھی ان کی شہادت کو بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دنیا کے سب سے معتبر شخص کو مار ڈالا، تاریخ کبھی فرموش نہیں کرے گی کہ کیسے 86 سالہ شخص تنہا شیطانی طاقتوں کے سامنے ڈٹا رہا، ہتھیار ڈالنے کے بجائے جامِ شہادت نوش کیا۔

علاوہ ازیں، پاکستانی شخصیات، جن میں خالد انعم، مایا علی، مدیحہ رضوی، ایمن خان، منال خان اور دیگر شامل ہیں، نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تعزیتی پیغامات شیئر کیے۔ 

اداکارہ مایا علی نے اپنی پوسٹ میں لکھا ’ہیروز کبھی مرتے نہیں، وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہتے ہیں، وہ سچے رہنما تھے جو اپنے دشمن کے خلاف اپنی پوری طاقت سے کھڑے رہے‘۔

گلوکار ثمر جعفری نے لکھا ’آج آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت نے مجھے میرے اس سوال کا جواب دے دیا جو میرے ذہن میں برسوں سے تھا کہ کوئی حضرت حسین کی مدد کے لیے آگے نہیں آیا جب انہیں سب سے زیادہ مدد کی ضرورت تھی۔

1989 میں روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد علی خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا  اور ایرانی ریاست قومی پالیسیوں کے حوالے سے ان کی رہنمائی پر انحصار کرتی رہی۔ 

سپریم لیڈر کی حیثیت سے انہوں نے ایران کی اہم پالیسیوں کی نگرانی کی، جن میں فوجی معاملات، عدلیہ اور ریاستی ادارے شامل تھے، اور ملکی و خارجہ پالیسی کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کیا جب کہ ان کی قیادت نے مغربی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت پر زور دیا۔

گزشتہ شب آیت اللہ علی خامنہ ای 86 برس کی عمر میں اپنے دفتر پر فضائی حملے کے نتیجے میں شہید ہوگئے، دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی اس عظیم نقصان پر سوگ منایا جا ہا ہے۔

 

 

Load Next Story