سخت سزا والے کیسز میں ثبوت کا معیار بھی سخت اور شک سے بالاتر ہونا چاہیے، سپریم کورٹ
فوٹو فائل
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سخت سزا والے کیسز میں ثبوت کا معیار بھی سخت اور شک سے بالاتر ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں ملزم سردار محمد کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ عدالت نے ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کی بریت کا حکم جاری کیا اور قرار دیا کہ اگر ملزم کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو اسے فوری رہا کیا جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات موجود ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق پولیس گواہان کے جائے وقوع پر پہنچنے کے وقت اور مقام کے بیانات میں فرق پایا گیا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ منشیات کی برآمدگی سے لیبارٹری منتقلی تک سیف کسٹڈی کا تسلسل ثابت نہیں ہو سکا اور مال مقدمہ کی منتقلی میں تاخیر اور خلا پراسیکیوشن کے کیس کے لیے مہلک ثابت ہوا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جائے وقوع کا نقشہ اور روزنامچہ کی انٹریز عدالت میں پیش نہیں کی گئیں جبکہ سخت سزا والے کیسز میں ثبوت کا معیار بھی سخت اور شک و شبہ سے بالاتر ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ ملزم کے خلاف تھانہ لورالائی میں 15 کلو چرس برآمدگی کا مقدمہ درج تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم سردار محمد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ کوئٹہ نے ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھی تھی۔