ایران اسرائیل جنگ اور بابا وانگا کی پیشگوئی، کیا یورپ تباہ ہوجائے گا؟

بابا وانگا نے 2026 کے ابتدائی مہینوں میں ایک بڑی جنگ کی پیشگوئی کی تھی

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔ ان حملوں میں اہم شخصیات کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات کے بعد خطے میں عدم استحکام اور ممکنہ وسیع تنازع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

جیسے ہی جنگی کارروائیوں کی خبریں منظر عام پر آئیں، سوشل میڈیا صارفین کی توجہ بلغاریہ کی معروف نابینا نجومی بابا وانگا کی پرانی پیشگوئیوں کی طرف مبذول ہوگئی۔ بابا وانگا، جن کا انتقال 1996 میں ہوا تھا، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آنے والے برسوں کے عالمی حالات سے متعلق مختلف پیشگوئیاں کرچکی تھیں۔

ان کے ماننے والوں کے مطابق بابا وانگا نے 2026 کے ابتدائی مہینوں میں ایک بڑی جنگ کی پیشگوئی کی تھی جو مشرق سے شروع ہوگی۔ سوشل میڈیا پر صارفین موجودہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اسی ممکنہ پیشگوئی سے جوڑ رہے ہیں۔

مبینہ پیشگوئی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس جنگ کے اثرات دنیا کے مغربی خطوں، خاص طور پر یورپ، پر شدید پڑ سکتے ہیں۔ بعض دعووں کے مطابق یورپ کو معاشی اور سماجی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور خطہ طویل عرصے تک عدم استحکام کی کیفیت میں رہ سکتا ہے۔

اسی تناظر میں بابا وانگا سے منسوب ایک اور دعویٰ بھی گردش میں ہے کہ عالمی تنازعات کے بعد روس ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر مزید مضبوط ہو کر سامنے آ سکتا ہے اور بین الاقوامی طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی پیشگوئیوں کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں ہوتی اور عالمی حالات کا تجزیہ مستند سفارتی اور سیاسی حقائق کی روشنی میں ہی کیا جانا چاہیے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں بھی پیشگوئیوں کے بجائے زمینی حقائق اور سرکاری بیانات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

Load Next Story