ایران کے معاملے پر کشیدگی کم کروانے کیلیے سفارتی کوششیں کررہے ہیں، ڈپٹی وزیراعظم
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کے بعد پاکستان صورتحال کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور کشیدگی کم کروانے کے لیے کوشاں ہے۔
کئی ممالک کے سفرا کو دی گئی بریفنگ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پر دوست ممالک کو اعتماد میں لینا چاہتا تھا، پاکستان علاقائی ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے،حالیہ صورتحال انتہائی نازک ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنی تمام سفارتی کوششیں بروئے کار لا رہا ہے، پاکستان ایران کی صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے اور ہماری تمام تر کوششیں کشیدگی کم کرانے پر مرکوز ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ تمام ریاستیں دوسرے ملکوں کی علاقائی خودمختاری بارے عالمی قوانین کی پابند ہیں، مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، پاکستان چاہتا ہے تمام فریقین سفارت کاری اورمذاکرات کوترجیح دیں۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی محاذ پر مشکل دور سے گزر رہے ہیں، پاکستان کو خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں پر انتہائی افسوس ہے تاہم ایران کی جانب سے حملے اپنے دفاع میں کئے گئے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب امور کے حل کیلیے سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے اور مسلسل مذاکرات و سفارت کاری پر زور دیتا آرہا ہے، یواے ای میں حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مشرق وسطیٰ خصوصاً غزہ میں امن کے قیام کیلیے پاکستان نے موثر کردارادا کیا، غزہ کے عوام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کی جانی چاہیے، ہم نے غزہ پیس بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ چین، امریکا اور برادر ممالک کے سا تھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں، افغانستان کے ساتھ پرامن ہمسائیگی کے خواہاں ہیں، گزشتہ سال افغانستان کے تین دورے کئے، جن کے دوران معیشت،تجارت اور دوسرے اہم امور پر تفصیل بات ہوئی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ دوروں کے دوران ریل منصوبے کے ذریعے روابط کے فروغ پر بات ہوئی، افغان طلبا کےلیے4500 وظائف کی پیشکش کی گئی اور اُن سے صرف ایک مطالبہ کیا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں مگر اکتوبر میں افغان سرزمین سے سنگین خلاف ورزی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس افغان سرزمین سے دہشتگردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، قطرنے مذاکرات کی درخواست کی اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا، استنبول مذاکرات کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا، آپریش غضب للحق میں ٹی ٹی پی اور دیگردہشت گردعناصر کیخلاف اقدامات کئے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے کامیابی سے دہشت گردوں کے ٹھکانے اور کیمپ تباہ کیے،جوابی کارروائی میں شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، سرحدی علاقوں کے 15 سیکٹرزکے 53 مقامات پر حملے پاکستان کیلیے ناقابل قبول تھے۔
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ کابل، ننگرہار، پکتیکا و دیگرعلاقوں میں37 مقامات کو مستند انٹیلی جنس پرنشانہ بنایا اور اقدامات انتہائی احتیاط کے ساتھ کیے گئے، کارروائیاں صرف طالبان رجیم اور دہشتگرد عناصر کیخلاف ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کیلیے تمام مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، حقیقت یہ ہے افغانستان اس وقت دہشت گردوں کیلیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اور ہم نے افغانستان میں دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔