کراچی: امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج، فائرنگ کے 3 مقدمات درج
مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے کےباہراحتجاج، فائرنگ، ہنگامہ آرائی اور جلاوگھیراؤ کے 3 مقدمات ڈاکس تھانے میں درج کر لیے گئے۔
مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے کےباہراحتجاج، فائرنگ، ہنگامہ آرائی اور جلاوگھیراؤ کے 3 مقدمات ڈاکس تھانے میں درج کر لیے گئے۔
مقدمات انسپکٹر نندلال کی مدعیت میں نامعلوم شر پسندوں کے خلاف درج کیے گئے ہیں، مقدمات میں قتل، اقدام قتل، انسداد دہشتگردی، ہنگامہ آرائی، جلاؤگھیراؤ، املاک کو نقصان پہنچانے اورکارسرکارمیں مداخلت سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیے گئے۔
مقدمات میں مجموعی طور پر 9 افراد کے جاں بحق 7 پولیس افسران و اہلکاروں نے 45 افراد کے زخمی ہونے کا زکرشامل ہے۔
مقدمات میں واضح طوریہ نہیں لکھا گیا کہ امریکی قونصل خانے پر مظاہرے کے دوران ہونے والی اموات کس کی فائرنگ سے ہوئیں ۔تفصیلات کے مطابق اتوارکی صبح مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے کےباہراحتجاج، فائرنگ، ہنگامہ آرائی اور جلاوگھیراؤ کے 3 مقدمات ڈاکس تھانے میں درج کر لیے گئے۔
مقدمات انسپکٹر نندلال کی مدعیت میں نامعلوم شر پسندوں کے خلاف درج کیے گئے ہیں،مقدمات میں قتل،اقدام قتل،انسداد دہشتگردی، ہنگامہ آرائی، جلاؤگھیراؤ، املاک کو نقصان پہنچانے اورکارسرکار میں مداخلت سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مقدمہ الزام نمبر26/65 کے متن کے مطابق یکم مارچ کوانسپکٹرنند لال دیگرپولیس افسران و اہلکاروں کے ہمراہ علاقہ گشت میں مصروف تھے کہ کنٹرول کے ذریعہ اطلاع ملی کہ شہرمیں مذہبی تنظیموں سے تعلق رکنے والی تنظیمیں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر امریکن قونصلیٹ پر احتجاج کریں گے۔
اسی دوران معلوم ہوا کہ امریکی قونصلیٹ کے سامنے کچھ لوگ اکٹھا ہوئے ہیں اورعمارت کو نقصان پہنچانے اوردیوار پھلانگنے کی کوشش کررہے ہیں جس پرتقریبا صبح ساڑھے 10 بجے کے قریب امریکن قونصلیٹ کے گیٹ نمبر 4 پر پہنچا تو150 سے 200 افراد جوکہ ڈنڈوں، لاٹھیوں اوراسلحہ سے لیس تھے جھنڈے لہرا رہے تھے اورنعرے بازی جاری تھی کہ ہجوم کے اندر سے چند شرپسند عناصر نے فائرنگ شروع کردی۔
جس پرافسران بالا کو صورتحال سے آگاہ کر کے مزید نفری طلب کی، اسی دوران پولیس کواپنی طرف آتے دیکھ کرشرپسند عناصرفائرنگ کرتے ہوئے فرارہوئے میں نے قریب جاکر معائنہ کیا تو 35سے 40 افراد زخمی حالت میں پائے گئے۔
قونصلیٹ کےگیٹ نمبر 4کےسیکیورٹی روم کوبھی توڑپھوڑکرکےنقصان پہنچایا ہواتھا،فوری طورپر ایمبولینس طلب کرکے زخمیوں کواسپتال روانہ کیا۔
ڈیوٹی آفیسراے ایس آئی نثاراحمد نے اسپتال فون کرکے زخمیوں کے بارے میں معلوم کیا تو ڈاکٹروں نے 9 افراد کے جاں بحق اور31 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی شرپسند عناصر نے فرار ہوتے ہوئے سرکاری ایس ایم جی بھی چھین لی۔
مقدمہ الزام نمبر26/66 کے متن کے مطابق دوپہر ایک بجے کے قریب جناح برج کی جانب سے مذہبی تنظیموں کے5 سے 6 ہزار افراد جن میں مرد اور خواتین شامل تھیں۔
مظاہرین نے بھی پرتشدد مزاحمت کی اورامریکن قونصلیٹ کے قریب واقع سلطان آباد ٹریفک سیکشن میں آگ لگادی اورسرکاری موبائل پر بھی پتھراؤ کیا۔
آئی جی سندھ نے اعلیٰ شخصیات کے احکام پرایس ایس پی ڈسٹرکٹ کیماڑی سمیت پانچ پولیس افسران کو عہدے سے ہٹادیا تھا۔
حکومت سندھ نے امریکی قونصل خانے واقعہ کی شفاف تحقیقات کے لیے اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی تھی کمیٹی کو7 روز میں تمام تر حقائق پر مبنی مکمل تفصیلات پرمبنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔