حاملہ خواتین میں کی جانیوالی تھراپی بچوں میں اہم پیدائشی نقص ختم کر سکتی ہے: تحقیق

تحقیق میں سرجنز نے فوٹل سرجری میں ریڑھ کی ہڈی پر اسٹیم سیلز لگائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچوں کی اسٹیم سیل تھراپی پیدائشی نقص سے تعلق رکھنے والے دماغی مسائل کو ختم کر سکتے ہیں۔

اسپائنا بیفائڈا کا مسئلہ تب پیش آتا ہے جب رحمِ مادر میں بچے کی ریڑھ کی ہڈی مکمل طور پر نہیں بن پاتی۔ اس مسئلے کی تشخیص دورانِ حمل یا بچے کی پیدائش کے فوری بعد ہوتی ہے۔

تحقیق میں سرجنز نے فوٹل سرجری میں ریڑھ کی ہڈی پر اسٹیم سیلز لگائے۔ محققین اب پُر امید ہیں کہ یہ عمل اس کیفیت میں مبتلا افراد کی صحت پر تاحیات اثرات مرتب کر سکے گا۔

اس بیماری کی دو بنیادی اقسام ہوتی ہیں، اوپن اسپائنا بِیفائڈا اور کلوزڈ اسپائنا بِیفائڈا۔ اوپن اسپائنا بِیفائڈا، جسے مائیلو مینینگو سیل اور مینیگو سیل بھی کہا جاتا ہے، نسبتاً کم پایا جاتا ہے مگر زیادہ سنگین نوعیت کا ہوتا ہے۔ اس میں ریڑھ کی ہڈی کے مہرے میں موجود خلا کے باعث اسپائنل کارڈ باہر کی جانب اُبھر آتی ہے۔

اس کی علامات میں چلنے پھرنے میں دشواری یا فالج، فضلے کے اخراج پر قابو نہ رہنا، ٹانگوں میں حس کا کم یا ختم ہو جانا، ریڑھ کی ہڈی کا ٹیڑھا پن اور دماغ میں پانی جمع ہو جانا شامل ہیں (جو سیکھنے کی صلاحیت میں مشکلات کا سبب بن سکتا ہے)۔

یہ آزمائش California میں کی گئی جس میں 24 سے 25 ہفتوں کی حاملہ چھ خواتین شامل تھیں۔

ان تمام خواتین کے بچوں میں مائیلو مینینگو سیل کی تشخیص ہو چکی تھی اور ان میں ہائنڈ برین ہرنئیشن بھی پایا گیا تھا، یہ دماغی ساخت کی ایسی خرابی ہے جو اسپائنا بیِفائڈا سے منسلک ہوتی ہے۔

تمام چھ مریضاؤں کی فیٹل سرجری کی گئی تاکہ بچے کی اس کیفیت کو درست کیا جا سکے۔

مزید ایک اضافی مرحلے کے طور پر، عطیہ کردہ نال (پلاسنٹا) سے حاصل کردہ اسٹیم سیلز کو براہِ راست ریڑھ کی ہڈی پر لگایا گیا۔

ان چھ خواتین نے جولائی 2021 سے دسمبر 2022 کے درمیان بچوں کو جنم دیا اور سب کے سب درست حالت میں موجود ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ تھے، جبکہ کسی قسم کے انفیکشن یا غیر معمولی بافتوں کی افزائش کے آثار نہیں پائے گئے۔

پیدائش کے بعد کیے گئے ایم آر آئی اسکین نے بھی تصدیق کی کہ ہائنڈ برین ہرنئیشن مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی اور دماغ اپنی معمول کی حالت میں واپس آ چکا تھا۔

Load Next Story