سینیٹ سے بھی نیب ترمیمی بل منظور، اپوزیشن کا شور شرابہ
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے نیب قوانین میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا تاہم اپوزیشن اراکین نے اس کی مخالفت کی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن عبدالقادر بلوچ نے نیب ترمیمی بل پیش کیا جس پر وزیر قانون نے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
ڈپٹی وزیراعظم نے اپوزیشن کے رکن بیرسٹر علی ظفر کے تحفظات کو سُن کر کہا کہ اگر کوئی ترمیم لانی ہے تو پرائیوٹ ڈے پر لے آئیں جبکہ ماضی میں تحریک انصاف نے پچاس پچاس قوانین تیزی سے منظور کروائے تھے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ بل کہیں اور سے آیا ہے، آج کوئی نجی ممبر ڈے نہیں ہے،
نیب ترمیمی بل منظور کراکے آج منہ پر طمانچہ مارا گیا کیونکہ یہ ڈیموکریٹک رویت کے خلاف ہے۔
علی ظفر نے پیش گوئی کی کہ یہ بل حکومت کو آگے جا کر کاٹے گا، یہ سب قانون سازی بانی پی ٹی آئی کے خلاف کی جارہی ہے۔
بل کو منظوری کیلیے پیش کیا گیا تو حکومت اور اتحادی جماعتوں نے اس کی حمایت کی جبکہ اپوزیشن (پی ٹی آئی) اراکین نے کاپیاں پھاڑ کر شدید احتجاج اور واک آؤٹ کیا۔
ترمیمی بل کے اہم نکات
ترمیمی بل کے تحت احتساب عدالتوں اور ہائی کورٹس کو ملزمان کو ضمانت دینے کے اختیار دیا گیا ہے، احتساب عدالت اور متعلقہ ہائی کورٹ کو ضابطہ فوجداری کی مختلف دفعات کے تحت ملزم کی ضمانت منظور کرنے کا اختیار ہوگا۔
اس کے علاوہ ضابطہ فوجداری کی دفعات 439، 496، 497 اور 498 کے تحت ملزمان کی رہائی یا ضمانت کا حکم بھی ہائیکورٹ یا احتساب عدالت دے سکے گی۔
ترمیمی بل میں قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 9 میں اہم تبدیلی کی تجویز کی گئی جس کے مطابق احتساب مقدمات میں عدالتوں کے اختیارات اور طریقہ کار کو مزید واضح بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
بل کے تحت قومی احتساب آرڈیننس میں نئی دفعہ 32A شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ترمیم کے مطابق احتساب مقدمات میں دوسری اپیل کا حق متعارف کرایا جاسکے گا جبکہ احتساب مقدمات میں سزا یافتہ شخص یا پراسیکیوٹر جنرل کو دوسری اپیل کا حق حاصل ہوگا۔
ترمیم میں تجویز کی گئی کہ نیب چیئرمین کی ہدایت پر پراسیکیوٹر جنرل بھی دوسری اپیل دائر کر سکے گا جبکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر کی جا سکے۔
تجویز دی گئی کہ ہائی کورٹس کے فیصلے پر 30دن کے اندر اپیل وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جاسکے گی۔ اس کے علاوہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں ایک بار تین سال کی توسیع ہوسکے گی اور اس کا اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہوگا۔