رمضان میں بھوک، پیاس اور نیند کی تھکن سے کیسے نمٹیں؟ ماہرین کے مشورے
جدید میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ روزہ دار کے جسم میں دوسرے افراد کی نسبت قوت مدافعت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ فوٹو: فائل
رمضان المبارک کے نصف سے زائد روزے گزر چکے ہیں، اور کچھ دن بعد ہی آخری عشرہ شروع ہوجائے گا۔
اگرچہ بہت سے افراد اس مہینے کی نئی روٹین کے عادی ہوچکے ہیں، لیکن ابتدا میں روزے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا اکثر لوگوں کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ کچھ افراد کے لیے تو پورا مہینہ بھی اس تبدیلی کو اپنانا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ روزے کے دوران بھوک، پیاس اور نیند کی کمی کے باوجود دن کو زیادہ آسان اور خوشگوار کیسے بنایا جائے۔
عربی جریدے سائیداتی کی ایک رپورٹ میں اس حوالے سے چند مفید نکات بیان کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کربک یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ نفسیات سوزانا جوز کے مشورے بھی شامل کیے گئے ہیں، جن کے مطابق اگر روزمرہ عادات کو درست انداز میں ترتیب دیا جائے تو رمضان نہ صرف آسان گزر سکتا ہے بلکہ اس سے بھرپور لطف بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
رمضان کے آغاز میں مشکل محسوس ہونے کی ایک بڑی وجہ روزمرہ زندگی میں اچانک آنے والی تبدیلی ہے۔ عام دنوں کے مقابلے میں سونے اور جاگنے کا وقت بدل جاتا ہے۔
تراویح کی نماز کے باعث رات کو دیر سے نیند آتی ہے اور پھر چند ہی گھنٹوں بعد سحری کے لیے اٹھنا پڑتا ہے۔ کھانے پینے اور نماز فجر کے بعد دوبارہ سونے کا وقت بہت کم رہ جاتا ہے، جس کے باعث صبح دفتر یا کام پر جانا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے الارم کی آواز جو عام دنوں میں معمولی لگتی ہے، رمضان میں اکثر ناگوار محسوس ہونے لگتی ہے اور دن بھر تھکن کا احساس رہتا ہے۔
روزے کے دوران جسم کی توانائی میں کمی بھی فطری عمل ہے۔ ماہرین کے مطابق جب انسان طویل وقت تک کچھ نہ کھائے تو خون میں گلوکوز کی سطح آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سستی اور تھکن محسوس ہوتی ہے اور دماغ جسم کو آرام کا اشارہ دیتا ہے۔
اس کے علاوہ جو افراد صبح کے وقت چائے یا کافی پینے کے عادی ہوتے ہیں انہیں روزے کے باعث اس کی کمی بھی محسوس ہوتی ہے، جس سے بعض اوقات سر درد اور مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہو سکتا ہے۔
بعض افراد کو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ روزے کے دوران وقت بہت آہستہ گزر رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ بار بار گھڑی دیکھنا ہے۔ خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں بھوک اور پیاس کی وجہ سے وقت کا گزرنا زیادہ مشکل لگنے لگتا ہے، حالانکہ اصل میں وقت کی رفتار وہی رہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب سے اہم چیز نیند کے معمول کو رمضان کے مطابق ڈھالنا ہے۔ نیند کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے جلد سونے کی عادت اپنانی چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو دن کے وقت مختصر قیلولہ بھی جسم کی توانائی بحال کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح سونے سے پہلے موبائل فون کے زیادہ استعمال سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے نیند میں تاخیر ہوتی ہے اور اگلے دن تھکن بڑھ جاتی ہے۔
سحری کے کھانے کا انتخاب بھی پورے دن کی توانائی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی غذا کا انتخاب کیا جائے جس میں پروٹین، فائبر اور صحت مند چکنائی شامل ہو، جیسے دودھ، گری دار میوے، دلیہ اور روٹی وغیرہ۔ اس کے برعکس بہت زیادہ میٹھی یا چکنائی والی اشیا سستی پیدا کرسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ چونکہ روزے کے دوران کئی گھنٹوں تک پانی نہیں پیا جا سکتا، اس لیے افطار اور سحری کے درمیان مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
کام کے اوقات کو بھی بہتر انداز میں ترتیب دینا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ چونکہ صبح کے وقت توانائی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے اس لیے اہم اور مشکل کام اسی وقت نمٹا لینا بہتر ہے، جبکہ دن کے آخری حصے کو نسبتاً آسان کاموں کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ مسلسل بیٹھے رہنے کے بجائے وقفے وقفے سے تھوڑی چہل قدمی کی جائے کیونکہ اس سے جسم میں توانائی برقرار رہتی ہے۔
بھوک اور تھکن کے احساس کو حد سے زیادہ ذہن پر سوار کرنا بھی مسائل کو بڑھا دیتا ہے۔ اس کے بجائے مثبت سرگرمیوں پر توجہ دینا زیادہ بہتر ہے۔ کام کے دوران دلچسپ یا حوصلہ افزا پوڈ کاسٹ سننا یا اپنی مصروفیات میں دلچسپی پیدا کرنا دن کو نسبتاً آسان بنا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزے کو محض ایک مشکل کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک ایسے موقع کے طور پر سمجھا جائے جو انسان میں نظم و ضبط پیدا کرتا ہے اور اندرونی طاقت کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہی مثبت سوچ رمضان کے دنوں کو زیادہ بامعنی اور خوشگوار بنا سکتی ہے۔