اسلام آباد: توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں بانی پی ٹی آئی کو جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت سردار لطیف کھوسہ کی جیل رولز کے حوالے سے تیاری نا ہونے کی وجہ سے 12 مارچ تک ملتوی کر دی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر جیل رولز کے حوالے سے تیاری کرکے آئیں اور ہماری معاونت کریں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے آپ دونوں سائیڈز تیاری کرکے آئیں آپ کو سن کر فیصلہ کریں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیل اور علاج کے لیے شفا اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ الیکشن کمیشن حکام بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ان کے وکالت نامہ کی تصدیق نہیں کرانے دے رہے۔ عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو اعتزاز احسن کا وکالت نامہ دستخط کرا کے دینے کی ہدایت کی۔
جسٹس ارباب طاہر نے استفسار کیا ہمیں کیا سننا چاہیے؟اپیل یامیڈیکل گراؤنڈ کی درخواست؟ الیکشن کمیشن حکام نے عدالت کو بتایا کہ ان کے وکیل امجد پرویز اب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب بن گئے ہیں، وکیل کی خدمات حاصل کرنی ہیں،دو تین دن دے دیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی۔
سردار لطیف کھوسہ نے اڈیالا جیل حکام کی رپورٹ عدالت کے سامنے پڑھ کر سنائی جس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو اس کیس میں 3سال قید کی سزا تھی جس میں 26دن جیل میں گزارچکے، 2سال11ماہ کی سزا رہتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل بورڈ کے ذریعے مستقل چیک اپ ہو رہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا علاج پمز کے ڈاکٹرز نے بھی کیا۔ بانی پی ٹی آئی کو دو دفعہ پمز اسپتال لایا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے اب تک کےعلاج کی مکمل تفصیل اڈیالاجیل رپورٹ میں شامل ہے۔
عدالت نے استفسار کیا شروع میں ان کا چیک اپ جیل میں ہوا ہے ؟ لطیف کھوسہ نے کہا جی بالکل،رپورٹ کےمطابق پہلےجیل میں چیک اپ ہوا تھا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا بانی پی ٹی آئی کو انجکشن لگانے کی ضرورت تھی اس لیے دو دفعہ بانی کو پمز اسپتال بھی لایا گیا۔
وکیل نے کہا کہ اس کیس میں سزا کے بعد بانی پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے جہاں انہیں عجیب صورتحال میں رکھا گیا تھا۔ اس وقت 2023 میں اس حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر بانی کی جیل میں حالت زار پر سپریم کورٹ نے رپورٹ منگوائی تھی۔
لطیف کھوسہ ایڈوکیٹ نے بتایا تین سال بعد2026میں یہ کیس لگاجہاں سپریم کورٹ کوبتایا کہ بانی کی آنکھ کامسئلہ ہے۔ حکومت 5 دن انکار کرتی رہی اس کے بعد حکومت نے پریس ریلیز جاری کی۔ فرینڈ آف کورٹ نے بانی کی آنکھ کا علاج کرنے کی تجویز دی اور لکھا کہ اگر علاج میں تاخیر ہوئی تو اس کے سیریس اثرات ہوں گے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے آپ کی درخواست میں استدعا کیا ہے ؟ لطیف کھوسہ نے کہا استدعا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے اور ذاتی معالج و فیملی کو بھی رسائی دی جائے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا ایک پریس ریلیز میں یہ ذکر بھی ہے کہ کسی فیملی ممبر کو اطلاع دی گئی تھی۔ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کسی فیملی ممبر کو اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ ایڈوکیٹ جنرل کے اصرار کیا کہ فیملی ممبر کو اطلاع دی گئی تھی۔
وفاق نے بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا اعتراض اٹھا دیا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں پمز کے ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنا۔ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کے ایکسپرٹس ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنا۔
سپریم کورٹ نے فرینڈ آف کورٹ کی تجاویز پر کوئی ہدایات نہیں دی تھیں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا اب یہ معاملہ ہمارے پاس ہے دیکھ لیتے ہیں۔ آپ بتائیں ہم کیا کر سکتے ہیں؟
ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا میرا اس درخواست پر اعتراض ہے کہ عدالت اس درخواست میں ہدایات جاری نہیں کر سکتی۔ اس کیس میں بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل ہونے کے بعد ضمانت مل چکی ہے۔
عدالت نے کہا متعلقہ جیل رولز بتائیں تو لطیف کھوسہ نے کہا آپ کل کے لیے رکھ لیں میں عدالت کی معاونت کر دوں گا۔ جسٹس خادم سومرو نے کہا میں کل دستیاب نہیں ہوں صحت ٹھیک نا ہونے کے باوجود آج آیا ہوں۔ عدالت نے سماعت بارہ مارچ تک ملتوی کر دی۔