اقوام متحدہ، سلامتی کونسل میں ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔
قرارداد کے حق میں 13 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے مسودے پر ووٹنگ ہوئی جس میں ایران کے پڑوسی ممالک پر حملوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
پاکستان نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور اسے مشترکہ طور پر پیش کرنے والے ممالک میں شامل تھا۔
بحرین کے مندوب نے اجلاس کو بتایا کہ ایران کے حملوں کی مذمت کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد کو 135 ممالک کی حمایت حاصل تھی جو اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی تعداد ہے۔
اس سے قبل ایبولا کے معاملے پر پیش کی گئی قرارداد کو 134 ممالک کی سرپرستی حاصل ہوئی تھی۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے پاکستانی مندوب کا خطاب
اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جہاں ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی ہے وہیں خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں میں دو پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی عالمی امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستان ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے تاہم مسائل کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی ان کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
متحدہ عرب امارات کے مندوب کا خطاب
متحدہ عرب امارات کے مندوب محمد ابوشہاب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ایران کے اقدامات کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حملے نہ صرف خطے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہیں بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک ان حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور خطے کے ممالک نے اس مشکل وقت میں اتحاد اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
روسی مندوب کا خطاب
روس کے نمائندے نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے اور کسی بھی ملک کی شہری آبادی پر حملہ ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب اور خلیجی ریاستوں میں سویلین آبادی کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے
روسی مندوب نے مؤقف اختیار کیا کہ خطے کی صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف یہ جارحیت موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی قرارداد کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تہران پر ہونے والے حملوں کا ذکر یا مذمت شامل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے اور اس نے بارہا کہا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف امریکی اڈے ہیں۔
روسی نمائندے نے مزید کہا کہ سینٹ کام کے مطابق ایران پر حملوں کے لیے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈے استعمال کیے گئے جن میں بحرین بھی شامل ہے۔
انہوں نے تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور مزید حملوں سے گریز کا مطالبہ کیا۔
امریکی مندوب کا خطاب
اجلاس میں امریکی مندوب نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران مسلسل شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور دنیا کے 135 ممالک اس کے اقدامات کے خلاف کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادی سلامتی کونسل میں حقائق کو مسخ کر رہے ہیں۔
امریکی مندوب کے مطابق دبئی میں ایک ہوٹل، بحرین کی بڑی آئل ریفائنری اور دبئی ایئرپورٹ جیسے سویلین مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا جو کسی صورت فوجی اڈے نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت سمیت کئی ممالک میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ کارگو بحری جہازوں پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں جو خوراک کی ترسیل میں مصروف تھے۔
امریکی مندوب نے مزید کہا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور عالمی برادری کو اس معاملے پر سنجیدہ فیصلہ کرنا ہوگا۔
چین کے مندوب کا خطاب
چین کے نمائندے نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں سویلین انفراسٹرکچر پر حملے فوری طور پر بند کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی اور تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں۔
چینی مندوب نے کہا کہ تنازعات کا واحد حل مذاکرات اور سفارتکاری ہے اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
برطانیہ کے مندوب کا خطاب
برطانیہ کے نمائندے نے کہا کہ ان کا ملک نہیں چاہتا کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھے۔ انہوں نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک، خصوصاً بحرین پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا۔
بحرین کے مندوب کا خطاب
بحرین کے مندوب نے اجلاس میں بتایا کہ ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو دنیا کے 135 ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بحرین کی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں سائرن بج رہے ہیں اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو خطے میں امن کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔