غزہ پر اسرائیلی بمباری، بچوں اور حاملہ خاتون سمیت 13 فلسطینی شہید
اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ پٹی میں کم از کم 13 فلسطینی شہید ہو گئے جن میں دو بچے، ایک حاملہ خاتون اور نو پولیس اہلکار شامل ہیں۔
اتوار کو ایک اسرائیلی حملہ وسطی غزہ کے ایک پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک میاں بیوی، ان کا 10 سالہ بیٹا اور ایک 15 سالہ پڑوسی لڑکا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والی خاتون جڑواں بچوں کی ماں بننے والی تھیں۔ مقامی افراد کے مطابق حملہ اچانک کیا گیا اور اس سے پہلے کسی قسم کی وارننگ نہیں دی گئی۔
اسی دوران ایک اور حملہ الزویدہ کے علاقے میں ایک پولیس گاڑی پر کیا گیا جس کے نتیجے میں نو پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار رمضان کے دوران بازاروں کی نگرانی اور امن و امان برقرار رکھنے کی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔
دوسری جانب اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ رفح کراسنگ کو بدھ کے روز جزوی طور پر کھول دیا جائے گا۔ تاہم اس کراسنگ کے ذریعے صرف محدود تعداد میں مسافروں کو آمد و رفت کی اجازت ہوگی جبکہ سامان کی ترسیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق غزہ میں اس وقت 20 ہزار سے زائد بیمار اور زخمی افراد بیرونِ ملک علاج کے انتظار میں ہیں جن میں تقریباً چار ہزار کینسر کے مریض اور ساڑھے چار ہزار بچے شامل ہیں۔ ان میں سے تقریباً 440 مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی صحت کے مطابق غزہ میں انسانی بحران مسلسل بڑھ رہا ہے۔ روزانہ تقریباً 600 امدادی ٹرکوں کی ضرورت ہے مگر اس وقت صرف 200 کے قریب ٹرک ہی داخل ہو پا رہے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ضروری ادویات کا تقریباً نصف ذخیرہ ختم ہو چکا ہے جبکہ دو تہائی طبی سامان بھی دستیاب نہیں رہا، جس کے باعث طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔