افغان طالبان امن کیلیے سنگین خطرہ، اقوام متحدہ کی کڑی پابندیاں برقرار
دہشت گرد گروہ افغان طالبان عالمی امن اور انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
افغان طالبان رجیم افغانستان میں خواتین اور اقلیتوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر مکمل مفلوج کرنے میں مصروف ہیں۔
افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نے طالبان پر اقوام متحدہ کی کڑی پابندیوں کا خیر مقدم کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 22 اعلیٰ طالبان ارکان پر پابندیاں لگائیں جو کہ انتہائی اہم اقدام ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نے کہا کہ یہ پابندیاں ثبوت ہے کہ افغان طالبان ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر اب بھی شدید خطرہ ہیں۔
افغان جریدے کے مطابق برطانیہ نے سلامتی کونسل کے فیصلے کے مطابق طالبان پر عائد پابندیوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا۔ برطانوی بیان کے مطابق طالبان اب بھی امن کیلئے خطرہ ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق طالبان کی موجودہ پالیسیوں نے افغانستان کو ایک بار پھر شدت پسند گروہوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی پابندیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی برادری طالبان کو ایک ریاست کے بجائے عسکری گروہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سرپرستی میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس جنوبی و وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا رہے ہیں۔