ایران جنگ کا 18واں دن: حملوں میں شدت، خطے اور عالمی معیشت پر اثرات بڑھ گئے

ایران کے مختلف شہروں بشمول تہران، شیراز اور کراچ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

تہران / مشرقِ وسطیٰ: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کو 18 دن ہو گئے ہیں، جبکہ جنگ مزید شدت اختیار کر کے پورے خطے اور عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے مختلف شہروں بشمول تہران، شیراز اور کراچ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ شہر اراک میں ایک حملے کے دوران ایک نومولود بچے اور اس کی دو سالہ بہن سمیت ایک ہی خاندان کے کئی افراد شہید ہو گئے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے اور کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایک امریکی حملے میں ایران کے ایک پرائمری اسکول میں کم از کم 170 افراد شہید ہوئے، جن میں اکثریت طالبات کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے اب تک امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں 1400 سے زائد افراد شہید اور 18 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

خلیجی ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملوں کے باعث فجیرہ کے آئل زون میں آگ لگ گئی، جبکہ ابوظبی میں میزائل کے ملبے سے ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا۔ قطر، کویت، بحرین اور سعودی عرب نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیل نے لبنان میں بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جہاں حزب اللہ کے خلاف حملے جاری ہیں اور ایک ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کچھ علاقوں میں زمینی آپریشن شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

عراق میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں بغداد میں حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا جبکہ امریکی سفارتخانے اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔

ادھر عالمی سطح پر اس جنگ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ جاپان نے صورتحال کے پیش نظر اپنے تیل کے ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد کریں، تاہم یورپی ممالک نے اس جنگ میں براہ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔

متعلقہ

Load Next Story