طالبان رجیم اور خوارج کی اسلام کی گمراہ کن تشریح؛ پاکستان اور آزاد کشمیر کا شہریوں کا شدید ردعمل
طالبان رجیم اور خوارج کی جانب سے اسلام کی گمراہ کن تشریح کرنے پر آزاد کشمیر کے شہریوں نے شدید ردعمل دیا ہے۔
افغان طالبان رجیم اور خوارج نے مذہب کو ہمیشہ اپنے ذاتی اور مذموم مقاصد کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ مذہب کا لبادہ اوڑھے طالبان رجیم اور خوارج کا اسلام اور اسلامی روایات سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔
مذہب کی گمراہ کن تشریح کرنے پر طالبان رجیم کو آزاد کشمیر کے شہریوں نے اپنے پیغامات میں کہا کہ طالبان رجیم اور خوارج مذہب کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر کے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں۔
شہری کا کہنا تھا کہ فتنۃ الخوارج اسلام کی غلط تشریح کر کے کمزور اور پسماندہ طبقات کو خودکش حملوں پر اکساتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور طالبان رجیم کا گٹھ جوڑ شامل ہے۔ فتنۃ الخوارج اور طالبان رجیم جہاد کی گمراہ کن تشریح کر کے یہود و ہنود کی پراکسی بن چکے ہیں۔
دوسری جانب، افغان دہشتگرد ٹھکانوں پر افواجِ پاکستان کی کامیاب کارروائی اور افغانی پروپیگنڈے کے خلاف پاکستانی عوام نے مضبوط اور دوٹوک مؤقف دیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ افواجِ پاکستان نے دہشتگرد ٹھکانوں پر مؤثر کارروائی کر کے قوم کے تحفظ کو یقینی بنایا، اور یہ اقدام ملک میں امن کے قیام کیلئے ناگزیر تھا۔
عوام کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان کا آپریشن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع میں ہر حد تک جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عوام کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر کا سہارا لے کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوششیں پہلے بھی ناکام ہوئیں اور آئندہ بھی ناکام رہیں گی، عوام نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ کسی بھی معصوم سویلین شہری کو نشانہ بنانا پاکستان اور اسکی افواج کا وطیرہ نہیں۔ پاک فوج ہمیشہ بین الاقوامی اصولوں اور انسانی اقدار کا خیال رکھتی ہے۔
عوام کا مزید کہنا تھا کہ سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات محض جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ افغانستان کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات دراصل اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہیں، جبکہ اصل مسئلہ دہشتگرد عناصر کی موجودگی ہے۔
عوامی رائے کے مطابق پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ امن کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اپنی خود مختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
شہریوں نے زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔