ایران جنگ کا 19واں دن: علی لاریجانی کی شہادت پر ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے، 100 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
تہران / تل ابیب / واشنگٹن: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے 19 ویں روز صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جبکہ ایران نے اپنی اعلیٰ قیادت کی شہادت کے بعد انتقام لینے کا اعلان کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی شہید ہو گئے، جسے ایرانی حکومت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا سیاسی نظام مضبوط ہے اور وہ ان حملوں کا بھرپور جواب دے گا۔
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں تل ابیب کے قریب رمات گن میں ایک عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور دو افراد ہلاک ہو گئے۔
خطے بھر میں جنگ کا پھیلاؤ
یہ تنازع اب صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکا ہے۔ ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کی جانب سے سعودی عرب، کویت، اردن اور دیگر خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
خلیجی ممالک نے ان حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھی فضائی دفاعی نظام متحرک رہا۔
امریکا میں سیاسی ہلچل
امریکا میں بھی اس جنگ کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے ایک اعلیٰ عہدیدار جو کینٹ نے استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ یہ جنگ اسرائیل کے دباؤ کے باعث شروع ہوئی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں اور جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے جنگ میں خاطر خواہ حمایت فراہم نہیں کی۔
ایران میں صورتحال
ایرانی وزارت صحت کے مطابق 28 فروری سے جاری حملوں میں اب تک 1,400 سے زائد افراد جاں بحق اور 18 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ایران نے ایک شخص کو موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت بھی دے دی ہے۔
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جزوی طور پر جہازوں کی آمد و رفت بحال ہو گئی ہے، تاہم تیل کی ترسیل اور پیداوار شدید متاثر ہے۔
اسرائیل اور لبنان میں کشیدگی
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں اہم فوجی تنصیبات اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جبکہ وادی بقاع میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔
عراق میں صورتحال
عراق میں امریکی سفارتخانے کے قریب ڈرون حملے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا، جبکہ بغداد میں متعدد دھماکے بھی رپورٹ ہوئے۔ ایک عراقی مسلح گروہ نے امریکی اہداف پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
معاشی اثرات
ماہرین کے مطابق جنگ کے باعث خطے میں توانائی، سیاحت اور فضائی سفر شدید متاثر ہوئے ہیں۔ تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔