ٹی ٹی پی کے خوارج کا اصل چہرہ بے نقاب، بچوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما دی
ٹی ٹی پی کے خوارج کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا جنہوں نے بچوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما دی۔
کمسن بچوں کو اسلحہ دینا بہادری نہیں بلکہ قوم کے مستقبل سے کھیلنے کی سفاک کوشش ہے، یہ معصوم ذہنوں کو شدت پسندی کی فیکٹری میں دھکیلنے کی سازش ہے۔
چند ویڈیوز سے خوارج کا کنٹرول ثابت نہیں ہوتا، یہ خوف اور پروپیگنڈے کے ذریعے جھوٹا تاثر گھڑنے کی کوشش ہے۔ جو گروہ بچوں کو گھٹیا نعرے لگوائے اور گن کلچر سکھائے، وہ عوام کا خیرخواہ نہیں، معاشرے کا دشمن ہے۔
درخت جلوانا، ہتھیار دلوانا اور بچوں کو استعمال کرنا، یہ طاقت نہیں، تباہی کا طریقہ کار ہے۔ آج اگر قوم خاموش رہی تو کل انہی بچوں کے ہاتھوں میں قلم نہیں، بارود ہوگا۔ خوارج کا بیانیہ اسلام نہیں، فساد، جبر اور انسانی وقار کی تذلیل ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایسے مناظر صوبائی حکمرانی اور مقامی سیاسی قیادت پر سنجیدہ سوال ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فورسز کی نہیں، ریاست، علما، والدین اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں، بلکہ بچوں کے استحصال، معاشرتی بگاڑ، مذہبی انحراف، اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ناکام اور گھناؤنی مثال ہے۔ بچوں کو ہتھیار تھمانا اور شدت پسند نعرے لگوانا اقوامِ متحدہ کے معیار کے مطابق بچوں کے استعمال اور بھرتی جیسے سنگین جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
اسی طرح پاکستان ماضی میں تعلیمی اداروں پر حملوں کی بھاری قیمت چکا ہے، جبکہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں بھی ایک انتہا پسند ذہنیت کی واضح علامت ہیں۔ پاکستان کا رقبہ تقریباً 796,096 مربع کلو میٹر ہے، اس لیے کسی دور افتادہ مقام پر محدود وقت کی ویڈیو بنا کر ’’کنٹرول‘‘ کا جھوٹا تاثر پیدا کرنا مشکل نہیں، شرم کا مقام ہے۔