اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز عید کی ادائیگی سے روک دیا
اسرائیلی فورسز نے عید الفطر کے موقع پر فلسطینیوں کو مسجد الاقصیٰ میں نماز عید ادا کرنے سے روک دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 1967 کے بعد پہلی بار رمضان کے اختتام پر مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند رکھا گیا، جس کے باعث فلسطینی نمازیوں کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے، جس کے باعث سینکڑوں فلسطینیوں کو بیت المقدس کے پرانے شہر کے باہر نماز عید ادا کرنا پڑی۔
اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا، تاہم فلسطینی حلقوں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
Palestinian worshippers in Jerusalem greeted with GAS BOMBS, CRACKDOWNS while marking EID — the end of Ramadan pic.twitter.com/rTqanMkor4
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات مستقبل میں بھی مذہبی عبادات پر پابندیوں کا باعث بن سکتے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔