ہیپاٹائٹس سی کی زیرِ آزمائش دوا سے متعلق انکشاف

دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 70 ہزار افراد ہیپاٹائٹس ای وائرس کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کے خلاف کلینیکل ٹرائلز میں شامل ایک دوا ہیپاٹائٹس ای وائرس کے پھیلاؤ کو بھی روک سکتی ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 70 ہزار افراد ہیپاٹائٹس ای وائرس کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ اس خطرناک مرض کے خلاف نہ تو کوئی ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص دوا۔ تاہم، اب امید کی ایک نئی کرن سامنے آئی ہے۔

جرمنی کے شہروں بوخم اور ہائیڈل برگ کے ساتھ چین کے دارالحکومت بیجنگ کے ماہرین پر مشتمل ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم نے ’بمنفوسبوویر‘ نامی مرکب کو دریافت کیا ہے، جو ہیپاٹائٹس ای وائرس کے خلاف مؤثر ثابت ہوا ہے۔ یہ مرکب نیوکلیوٹائیڈ/نیوکلیوسائیڈ اینالاگ ادویات کے ذخیرے میں سے منتخب کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق یہ دوا پہلے ہی ہیپاٹائٹس سی وائرس کے خلاف آزمائش کے مراحل میں ہے، جس کی وجہ سے امید کی جا رہی ہے کہ اسے نسبتاً کم وقت میں ہیپاٹائٹس ای کے علاج کے طور پر بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر مزید تحقیق اور آزمائشیں کامیاب رہیں تو یہ دریافت مستقبل قریب میں لاکھوں مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق 6 مارچ 2026 کو معروف طبی جریدے ’گٹ‘ میں شائع کی گئی ہے، جسے ماہرین صحت ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

Load Next Story