سرکاری ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے اہم فیصلہ جاری کر دیا
سرکاری ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے اہم فیصلہ جاری کر دیا۔
فیصلہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے تحریر کیا جس میں قرار دیا گیا کہ عوامی تقرریوں کا عمل آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق پر مبنی ہے اور ہر شہری کو وفاقی یا صوبائی حکومت کے کسی بھی محکمے، منسلک ادارے، خودمختار ادارے یا کارپوریشن میں کھلے مقابلے کی بنیاد پر تقرری کے لیے مقابلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ شہریوں کو یہ حق اسی صورت مل سکتا ہے جب تقرری کا عمل شفاف، منصفانہ اور عادلانہ طریقے سے انجام دیا جائے اور سرکاری بھرتیوں میں کسی قسم کا تعصب یا شفافیت پر شک نہ ہو۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تقرری کے معیار سے انحراف نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ حکومتی ملازمتوں پر عوامی اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ نچلے درجے کی آسامیوں جیسے نائب قاصد، خاکروب اور چوکیدار کی تقرریاں بھی انتہائی احتیاط اور دیانتداری کی متقاضی ہوتی ہیں کیونکہ ان کے لیے سخت تعلیمی شرائط مقرر نہیں ہوتیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسی تقرریاں ایک عوامی امانت ہیں اور حکام کو اختیار کے کسی بھی غلط استعمال پر جواب دہ ہونا ہوگا، کیونکہ منتخب افراد کو تنخواہیں قومی خزانے سے ادا کی جاتی ہیں۔
عدالت نے سلیکشن کمیٹیوں کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق تقرریوں کا عمل ازسرنو مکمل کیا جائے اور 60 روز میں رپورٹ رجسٹرار جوڈیشل کو ارسال کی جائے۔ عدالت نے غفلت برتنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا بھی حکم دیا۔
کیس ڈسٹرکٹ ہسپتال کرک میں فروری 2020 میں کلاس فور ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق تھا۔ سلیکشن کمیٹی نے اہل امیدواروں کی بھرتی کی تجویز دی تھی تاہم پشاور ہائیکورٹ نے تقرری آرڈرز جاری کرنے پر حکم امتناع دیتے ہوئے بھرتیوں کو شفاف بنانے کی ہدایت کی تھی، جس کے خلاف معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں سنا گیا جہاں مذکورہ فیصلہ جاری کیا گیا۔