بھارت نے ایس-400 روسی میزائل سسٹم، طیاروں کی خریداری کیلئے 25 ارب ڈالر کی منظوری دے دی

ٹرانسپورٹ طیاروں، روسی دفاعی میزائل سسٹم ایس-400 اور بغیر پائلٹ کے حملہ کرنے والے طیاروں کی خریداری شامل ہیں، رپورٹ

فوٹو: اے ایف پی

بھارت نے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ طیاروں، روسی ساختہ دفاعی میزائل سسٹم ایس-400 اور بغیر پائلٹ کے حملے کرنے والے طیاروں کی خریداری کے لیے 25 ارب ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی وزارت دفاع نے بتایا کہ دفاعی خریداری کے لیے 25 ارب ڈالر کی اس منظوری میں ٹینک کا گولا بارود، گن سسٹمز اور فوج کے لیے فضائی نگرانی کا نظام، بھارتی فضائی کے زیراستعمال سوکھوئی-30 کی صلاحیت بڑھانے اور کوسٹ گارڈ کے لیے ہوور کرافٹ کی خریداری شامل ہے۔

بھارت کی وزارت دفاع کی جانب سے اس کے علاوہ روس کی کمپنی جے ایس سی روسوبورون سے ٹونگوسکا فضائی دفاعی نظام کے حصول کے لیے 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے الگ معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے مجموعی طور پر 71 ارب ڈالر مالیت کے 55 منصوبوں کی منظوری دی ہے اور 31 مارچ کو ختم ہونے والی مالی سال کے دوران مزید 2.28 ٹریلین بھارتی روپے کی مالیت کے دیگر 503 معاہدوں پر بھی  دستخط کیے گئے ہیں اور یہ اعداد وشمار ایک مالی سال کے دوران اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نے گزشتہ ماہ اپنی فضائیہ کے لیے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں اور بحریہ کے لیے بوئنگ پی-81 کی خریداری کے لیے 40 ارب ڈالر کی رقم کی منظوری دے دی تھی۔

اسٹاک ہام انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی دستاویزات کے مطابق بھارت دفاع کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ اخراجات کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے اور سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے ممالک میں یوکرین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے دفاعی ضروریات کا بڑا حصہ روس سے حاصل کر رہا ہے اور سوویت دور کے اسلحے کو جدت دے رہا ہے، اس کے علاوہ فرانس، اسرائیل، امریکا اور جرمنی سے بھی مختلف دفاعی خریداری کر رہا ہے۔

بھارت حالیہ برسوں میں بیرونی شراکت داروں کے ساتھ اور اپنے طور پر بندوقوں اور ڈرونز سے لے کر جنگی طیاروں اور آبدوزوں تک مقامی سطح پر تیار کرنے پر زور دے رہا ہے۔

Load Next Story