ذیابیطس کے نئے علاج کی آزمائش، متعدد مریض شفایاب
محققین نے اعلان کیا ہے کہ تازہ ترین آزمائش کے بعد متعدد امریکی مکمل طور پر ذیابیطس سے شفایاب ہوگئے جس کے بعد انہوں نے انسولین کا استعمال چھوڑ دیا ہے۔
یونیورسٹی آف شکاگو میڈیسن ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ میں محققین کی ایک ٹیم نے ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا افراد پر جاری آزمائش کے نتائج سے متعلق آگاہ کیا۔
ٹائپ 2 ذیا بیطس کے برعکس ٹائپ 1 ذیا بیطس ایک ایسی آٹو امیون بیماری ہے جس میں مدافعتی نظام لبلبے میں انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
انسولین کے بغیر ٹائپ 1 ذیا بیطس کے مریضوں کے جسم میں بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کا کوئی نظام نہیں رہتا، جس کے باعث شوگر خون میں جمع ہو کر خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ اس کے بجائے جسم توانائی کے لیے چکنائی کو توڑنا شروع کر دیتا ہے، جس سے تیزابی مادے بنتے ہیں جنہیں کیٹونز کہا جاتا ہے اور بالآخر یہ حالت ڈائبیٹک کیٹو ایسیڈوسِس کا سبب بنتی ہے، جو دماغ میں سوجن، گردوں کی خرابی، دل کا دورہ اور ممکنہ طور پر موت کا باعث بن سکتی ہے۔
اس آزمائش میں 10 مریضوں (جو ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا تھے) میں آئیلٹ خلیات کی پیوندکاری کی گئی۔ یہ چھوٹے، مخصوص خلیوں کے مجموعے ہوتے ہیں جو لبلبے میں پائے جاتے ہیں اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز پیدا کرتے ہیں۔
صرف چار ہفتوں کے اندر(تمام 10 مریض انسولین کے استعمال سے آزاد ہو گئے) یعنی ان کے جسم خود انسولین بنانے کے قابل ہو گئے اور انہیں مہنگے اضافی انجیکشنز کی ضرورت نہیں رہی۔