پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے سندھ کے ماہی گیروں کی زندگی شدید متاثر
حکومت کی جانب سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے سندھ کے ماہی گیروں کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
کوسٹل میڈیا سینٹر ابراہیم حیدری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ماہی گیروں کے روزگار کو شدید بحران میں ڈال دیا ۔
سمندر میں شکار کے لیے جانے والی کشتیوں کا زیادہ تر انحصار ڈیزل پر ہوتا ہے، جس کی قیمت بڑھنے سے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ۔ پہلے ہی مہنگائی، سمندری آلودگی اور کم ہوتی مچھلی کے باعث ان کی آمدن محدود ہو چکی تھی۔
بیان کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے شکار پر جانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کئی چھوٹے ماہی گیر اپنی کشتیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں،جس سے ان کے گھروں کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
ترجمان نے بیان میں کہا کہ ساحلی پٹی کے مختلف علاقوں میں اس صورتحال کے باعث نہ صرف ماہی گیروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے بلکہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے مقامی ماہی گیری معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔
ماہی گیروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیزل پر سبسڈی دی جائے یا انہیں خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنا روزگار جاری رکھ سکیں، تاہم اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سندھ کے ساحلی علاقوں میں غربت اور بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے،جس کے سماجی اثرات بھی سامنے آئیں گے۔