سندھ ہائیکورٹ نے زیر التواء قتل مقدمات 3 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیدیا

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو مقدمات کی روزانہ نگرانی اور ہفتہ وار بنیاد پر سماعت یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی

سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں قتل کے مقدمات کے بڑھتے ہوئے التوا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 2023 تک درج تمام زیر التواء مقدمات 3 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبے میں قتل کے مقدمات کے بڑھتے ہوئے التوا سے متعلق ممبر انسپکشن ٹیم نے سیشن ججز کو خط لکھ دیا۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ کیس مینجمنٹ سسٹم کے مطابق مختلف اضلاع میں قتل کے پرانے مقدمات کی بڑی تعداد زیر التواء ہے۔ سال 2023 تک مجموعی طور پر 1761 قتل کے مقدمات ابھی تک نمٹائے نہیں جاسکے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کا حکم دیا ہے۔ ہر ہفتے کیسز کی سماعت مقرر کریں اور تین ماہ کے اندر اندر تمام زیر التواء مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

سیشن ججز کیسز نمٹانے کے حوالے سے ماہانہ کارکردگی رپورٹس بھی جمع کرائیں۔ ضلع خیرپور میں 242 مقدمات زیر التواء ہیں۔ کراچی میں مجموعی طور پر 632 قتل کے مقدمات زیر التوا ہیں۔

ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو 2023 تک درج تمام زیر التواء مقدمات 3 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیدیا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو مقدمات کی روزانہ نگرانی اور ہفتہ وار بنیاد پر سماعت یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

Load Next Story