والدین کے موبائل استعمال کرنے کی عادت بچوں کے رویوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟
ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ والدین جو بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے زیادہ تر موبائل یا دیگر اسکرینز میں مصروف رہتے ہیں، نہ صرف بچوں کے لیے غلط طرزِ عمل کی مثال قائم کرتے ہیں بلکہ ان کی زبان سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
ایسٹونیا میں 421 بچوں کے والدین پر کیے گئے سروے سے پتا چلا کہ جن گھروں میں اسکرین کا استعمال زیادہ تھا، وہاں بچوں میں بھی یہی عادت زیادہ دیکھی گئی اور ان کی لغت اور گرامر نسبتاً کمزور رہی۔ یہ نتائج معروف سائنسی جریدے ’’فرنٹیئرز اِن ڈیولپمنٹل سائیکولوجی‘‘ میں شائع ہوئے۔
تحقیق کے مطابق بچوں کی زبان کی نشوونما میں سب سے اہم کردار والدین کے ساتھ براہِ راست گفتگو کا ہوتا ہے۔ تاہم جب والدین یا بچے زیادہ وقت اسکرینز پر گزارتے ہیں تو گھروں میں بات چیت، سکھانے اور پڑھانے کا عمل متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں کی زبان سیکھنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ بچوں کے ساتھ مل کر اسکرین دیکھنا بھی ان کی لسانی مہارت کو بہتر بنانے میں مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔
اس تحقیق کی سربراہی ڈاکٹر ٹییا ٹولویسٹے نے کی، جن کا کہنا ہے کہ یہ نتائج خاندانی اسکرین عادات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ والدین کا رویہ براہِ راست بچوں کی نشوونما پر اثر ڈالتا ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے کو سمجھنا اور اس پر قابو پانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تحقیق میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال کے اثرات صرف زبان تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچوں کی حفاظت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایک اور مطالعے کے مطابق جب والدین مسلسل فون میں مصروف رہتے ہیں تو بچوں پر توجہ کم ہو جاتی ہے، جس سے حادثات یا چوٹ لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرِ اطفال ڈاکٹر جینی ریڈسکی کے مطابق ہر وقت موبائل کا استعمال ضروری نہیں، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ وقتاً فوقتاً فون کو ایک طرف رکھ کر اپنے بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں، جیسے کھانے یا کھیل کے وقت اسکرین سے دوری، بچوں کی بہتر نشوونما میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ تحقیق والدین کو اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی بچوں کی تربیت اور نشوونما کے لیے انسانی رابطہ اور توجہ سب سے زیادہ اہم ہے۔