فلوریڈا کے گورنر نے ریاست میں شریعہ قانون پر پابندی لگادی

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مذہبی آزادیوں اور مخصوص کمیونٹیز کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں

امریکی ریاست فلوریڈا کے گورنر ران ڈی سانٹیس نے ایک نئے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت ریاست میں ایسے غیر ملکی اور مذہبی قوانین پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جو امریکی آئین سے متصادم ہوں، جن میں شریعہ قانون کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے قانون کا مقصد ریاست میں صرف امریکی آئین اور مقامی قوانین کو بالادست رکھنا ہے، تاکہ کوئی بھی متبادل قانونی نظام ریاست کے اندر نافذ نہ ہو سکے۔

اس قانون کے تحت ایسے عناصر کے خلاف بھی اقدامات کیے جائیں گے جنہیں دہشت گرد گروہوں سے منسلک سمجھا جاتا ہے، تاکہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

گورنر ران ڈی سانٹیس کا کہنا تھا کہ ریاست کو قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے ایک واضح اور متحد قانونی نظام کی ضرورت ہے، اور آئین ہی ریاست کا بنیادی قانون ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلوریڈا کے اداروں کو ایسے افراد سے محفوظ رکھنا ضروری ہے جو ریاستی نظام یا تعلیمی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مذہبی آزادیوں اور مخصوص کمیونٹیز کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ حامیوں کا موقف ہے کہ یہ قانون ریاستی سلامتی اور قانونی یکسانیت کے لیے ضروری ہے۔

Load Next Story