امریکا کی شہریوں کو وارننگ، حج کیلئے سعودی عرب جانے پر نظرثانی پر زور

سفارت خانہ اور قونصل خانےمعمول کی خدمات معطل کر چکے ہیں تاہم امریکی شہریوں کے لیےمحدود ہنگامی خدمات فراہم کر رہے ہیں

فوٹو: فائل

امریکا نے اپنے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر  شہریوں کو اگلے ماہ حج کے لیے سعودی عرب کا سفر کرنے پر نظرثانی پر زور دیا ہے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سیکیورٹی خدشات کے باعث اگلے ماہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا سفرہ کرنے کا جائزہ لیں۔

بیان میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے سعودی عرب کا سفر کرنے سے گریز کرنے کے لیے حال ہی میں جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری سیکیورٹی کی صورت حال اور بین الاقوامی سفری خلل کے باعث ہم ہدایت کرتے ہیں کہ رواں برس حج کی ادائیگی کےلیے نظر ثانی کریں۔

امریکی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو امریکی شہریوں کی حفاظت سلامتی سے بڑھ کوئی اور ترجیح نہیں ہے۔

مزید بتایا گیا کہ سعودی عرب کے لیے جاری ٹریول ایڈوائزری کے تحت ہم امریکی شہریوں کو سعودی عرب کے دورے سے احتیاط کریں اور سیکیورٹی صورت حال سفری تعطل کی وجہ سے ہم رواں برس حج کی ادائیگی کے فیصلے کر نظرثانی کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ18 اپریل کو مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افراد کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ حج پرمٹ، مکہ سے جاری ریزیڈنسی شناختی کارڈ، یا مکہ کا ورک پرمٹ پیش کریں۔

امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ دیگر ویزا رکھنے والوں کو 18 اپریل سے پہلے مکہ چھوڑ دینا چاہیے، یہ اقدامات جون کے اوائل سے وسط تک نافذ العمل رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی سفارت خانہ اور قونصل خانے تمام معمول کی قونصلر خدمات معطل کر چکے ہیں اور امریکی شہریوں کے لیے محدود ہنگامی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

Load Next Story