ایران نے جنگ بندی کی بھیک مانگی تو ٹرمپ نے بھی ’رحم‘ کیا؛ امریکی وزیر دفاع
صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع نے ایران میں پھنسے اپنے پائلٹس کو نکالنے کے آپریشن بتادیا
امریکی وزیر دفاع و جنگ پیٹ ہیگستھ نے پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوتے جنگ میں حصہ لینے والے فوجی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو بڑی شکست دیکر نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انھیں وہ کامیابی ملی جو اب تک کسی کو نہیں ملی تھی۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت اب نئے اور مختلف لوگوں کا ایک گروپ ہے جو مذاکرات کے حامی ہیں۔
جب ان سے ایران کی افزودہ یورینیم حوالے کرنے سے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ امریکا کی ہمیشہ سے یہی شرط رہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کو جنگ میں شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی فضائیہ اور نیوی کو تباہ کردیا اور جوہری صلاحیت کو بھی شدید گزند پہنچی ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے لیے خود بھیک مانگی تھی جس پر صدر ٹرمپ نے رحم سے کام لیا۔
امریکی وزیرِ دفاع نے جنگ بندی کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی ہی حقیقی امن اور ایک حقیقی معاہدے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وزارت دفاع و جنگ فی الحال اپنا کردار ادا کرچکی ہے تاہم وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں کہ ایران معاہدے کی ہر معقول شرط پر عمل کریں۔
انھوں نے مزید کہا کہ جنگ 2 ہفتوں کے لیے معطل ہے لیکن امریکی فوجی چونکنے ہیں۔ کسی بھی بدلتی صورت حال پر فوری طور پر دوبارہ جنگ برپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بھی پینٹاگون میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔