ایران-امریکا جنگ بندی پر برطانیہ پاکستان کا شکر گزار

تنازع کا فوری حل خطے میں ہمارے عوام سمیت سیکیورٹی کے تحفظ کا بہترین راستہ ہے، برطانوی سیکریٹری خارجہ

فوٹو: فائل

برطانیہ نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مجوزہ مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے تنازع کے حل کے لیے پاکستان سمیت دیگرتعاون کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا کہ امریکا، سرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتی ہیں، یہ خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کے قیام اورانٹرنیشنل شپنگ اورعالمی معیشت کو دوبارہ معمول پرلانے کی جانب اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مذاکرات کا بھی خیرمقدم کرتی ہوں، پاکستان اور مذاکرات کے لیے مسلسل کام میں شامل لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں۔

برطانوی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ برطانیہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، خلیجی ممالک کے حق دفاع اور تنازع کے فوری حل کے لیے تعاون پر بین الاقوامی سطح کام کر رہا ہے اور گزشتہ ہفتے میری سربراہی میں 40 سے زائد ممالک کا اجلاس ہوا جہاں انٹرنیشنل شپنگ کے لیے فوری اور آزادانہ طور پر نقل و حمل بحال کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تنازع کا فوری حل خطے میں ہمارے عوام سمیت سیکیورٹی کے تحفظ کا بہترین راستہ ہے اور خاص طور پر یہاں ملک کے اندر ان لوگوں کی مدد کرنا بھی ضروری ہے جو مہنگائی کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ بالکل واضح رہا ہے کہ ہمیں کشیدگی ختم کرنے اورآبنائے ہرمز کھولنے کی ضرورت ہے، ہم شپنگ، انشورنس اور توانائی کے شعبوں کے ساتھ کام کریں تاکہ جلد ازجلد روٹ میں اعتماد بحال ہوجائے۔

جنگ بندی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران کو بارودی سرنگین بچھانے، ڈرون حملے اور آبنائے ہرمز میں تمام تجارتی سرگرمیاں روکنے کی کوششیں فوری طور پر بند کرنی چاہیے۔

یوویٹ کوپر نے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مجوزہ مذاکرات سے تنازع کا مکمل خاتمہ ہو اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز یا اپنے ہمسائیوں کو نہ دھماکانے کو یقینی بنانا ہوگا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ لبنان میں بھی کشیدگی ختم کی جائے۔

برطانوی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ ہم اس جنگ بندی، مذاکرات میں پیش رفت کے فروغ، خطے میں سیکیورٹی اور تحفظ اور دنیا کے شپنگ کی آزادی بحال رکھنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون کام جاری رکھیں گے۔

Load Next Story