دبئی؛ ایران جنگ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل، پراپرٹی فروخت میں 30 فیصد سے زائد کمی
فوٹو: انادولو
دبئی میں ایران جنگ کے اثرات نے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو بری طرح لپیٹ میں لیا ہے جہاں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا ہے اور اس دوران فروخت میں 30.50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
غیرملکی میڈیا نے رئیل اسٹیٹ پلیٹ فارم ڈی ایس بی انٹریکٹ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پراپرٹی کی فروخت میں 30.50 کمی آئی ہے اور 28 فروری سے پہلے 17 ہزار 27 ٹرانزیکشن کے مقابلے میں 2 مارچ سے 29 مارچ تک 11 ہزار 828 ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران جنگ کے ایک ماہ کے دوران مالی اثرات اس سے کہیں زیادہ پڑے ہیں کیونکہ ٹرانزیکشن کا مجموعی حجم 36 فیصد کمی سے 16.53 ارب ڈالر سے 10.58 ارب ڈالر تک گر گیا ہے۔
اسی طرح دبئی فنانشل مارکیٹ رئیل اسٹیٹ انڈیکس بھی 21.23 فیصد کم ہوا ہے۔
صنعتی ماہرین کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں ریکارڈ کی گئی یہ سست رفتار دستاویزات کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہوسکتی ہے، استنبول کی رئیل اسٹیٹ سروسز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بیرام ٹیکسے نے خبرایجنسی انادولو کو بتایا کہ رئیل اسٹیٹ کی خریداری کی طلب میں 70 فیصد تک کمی آگئی ہے جس کے اثرات آنے والے مہینے میں سامنے آسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خاموش سڑکیں اور خالی ہوٹلوں کی وجہ سے ڈیولپرز کو ڈسکاؤنٹ آفرز اور شہر کی پریمیئم مارکیٹ کا تشخص برقرار رکھنے کے لیے ادائیگیوں کے منصوبے میں لچک کا مظاہرہ کرنا پڑ رہا ہے۔
بیرام نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے جنگ کے باعث سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تقریباً 6 لاکھ ایرانی شہریوں کا ریزیڈنسی ویزا یا پرمٹ کی توسیع روک دیا ہے۔
رئیل استیٹ ایڈوائزری کمپنی کے سی ای او براک اوستوغلو نے بتایا کہ مارکیٹ احتیاطی طور پر دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر منتقل ہوگئی ہے اور خریدار طویل مدتی پروجیکٹس میں کم ادائیگوں اور طویل قسطوں کے منصوبوں کی تلاش میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پراپرٹی کی قیمتیں پہلے ہی تقریباً 10 فیصد تک کم ہوچکی ہیں، جو تنازع کے بڑھ جانے کی صورت میں کئی مہینوں تک ہی صورت حال برقرار رہنے کے خدشے کا باعث ہے اور دوسری چیز مارکیٹ کی پرائس 30 فیصد تکم کم ہوسکتی ہے۔