جعلی سرٹیفکیٹ جمع کرانے پر عدالت کا خاتون اے ایس پی کے خلاف کارروائی کا حکم
فوٹو: فائل
جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں جمع کروانا خاتون اے ایس پی کو مہنگا پڑگیا، جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے ایس ڈی پی او ڈیفنس ندا جنید کے خلاف فوج داری کارروائی کا حکم دے دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون اے ایس پی نے عدالت میں غیر حاضری پر جاری شوکاز نوٹس کے جواب میں میڈیکل سرٹیفکیٹس پیش کیے تھے۔ عدالت نے متعلقہ اسپتال سے میڈیکل سرٹیفکیٹس سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی۔
اسپتال نے خاتون افسر کے پیش کردہ میڈیکل سرٹیفکیٹ جعلی قرار دیئے۔ اسپتال کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ تاریخ کو پولیس افسر کے نام سے کوئی وزٹ، علاج یا میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا۔
پولیس افسر کی پیش کردہ دستاویزات اسپتال کے ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتیں، پولیس افسر کی پیش کردہ سرٹیفکیٹس اسپتال کی جاری کردہ نہیں ہیں۔
حکم نامے کے مطابق اسپتال کی رپورٹ کی بنیاد پر خاتون پولیس افسر کو ایک اور شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ ایس ڈی پی او ڈیفنس نے موقف اختیار کیا کہ سرٹیفکیٹس نیک نیتی سے جمع کرائے اور اگر کوئی غلطی ہوئی تو وہ غیر ارادی تھی۔
عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ پیش کردہ ایمرجنسی اور او پی ڈی پرچیوں پر دستخطوں میں واضح فرق موجود ہے، جعلی دستاویز کو اصل ظاہر کرتے ہوئے پیش کرنا قانونی طور پر جرم ہے۔ پولیس افسر سے قانون کی مکمل پاسداری کی توقع کی جاتی ہے۔ افسران ایسے اقدامات میں ملوث ہوں تو اس سے پورا نظام انصاف متاثر ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق پولیس افسران کے جرائم کو عام شہریوں کی نسبت زیادہ سختی سے دیکھا جانا چاہیئے۔ خاتون پولیس افسر مس کنڈیکٹ کی مرتکب ہوئی ہیں۔ محکمہ پولیس قانون کے مطابق محکمانہ کارروائی کرسکتا ہے، جعلی دستاویز پیش کرنے پر پولیس افسر کے خلاف براہ راست شکایت داخل کی جائے۔
عدالت نے ایس ڈی پی او ڈیفنس کے خلاف فوج داری کارروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا۔