پاکستان کا فوجی دستہ سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز ایئربیس پہنچ گیا

پاکستانی فورس پاک فضائیہ کے فائٹر اور سپورٹ طیاروں پر مشتمل ہے، سعودی وزارت دفاع

فوٹو: فائل

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کا فوجی دستہ کنگ عبدالعزیز ایئربیس پہنچ گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ ‘وزارت دفاع اعلان کرتی ہے کہ برادر ممالک کے درمیان مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوج مشرقی سیکٹر میں کنگ عبدالعزیز ایئربیس پہنچ گئی ہے’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘پاکستانی فورس پاک فضائیہ کے فائٹر اور سپورٹ طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد مشترکہ عسکری تعاون بڑھانے، دونوں ممالک کے درمیان جنگی تیاروں میں اضافہ اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سلامتی و استحکام میں تعاون ہے’۔

پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سیفر نواف بن سعید المالکی نے بھی ایکس پر سعودی وزارت دفاع کا بیان ری ٹوئٹ کیا اور اردو میں ترجمے کے ساتھ بتایا کہ سعودی وزارت دفاع کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک فوجی دستہ دونوں برادر ممالک کے درمیان طے پانے والے مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت مشرقی علاقے میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئربیس پہنچ گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستان کو حرمین الشریفین کی حفاظت کی ذمہ داری مل گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ پاکستانی وفد سعودی عرب پہنچا تھا اور دونوں ممالک کے سربراہان نے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کی ایک اہم شق ہے کہ کسی قسم کا بیرونی مسلح حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا اور جارحیت کی صورت میں دونوں ممالک دشمن کو مشترکہ طور پر بھرپور جواب دیں گے۔

اسی طرح مشترکہ دفاع کی صورت میں دونوں ممالک کسی بھی خطرے کو مل کر دیکھیں گے اور ایک ملک کی طاقت کو دوسرے ملک کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوجی دستے کی سعودی عرب میں باقاعدہ تعیناتی ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب خطے میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد کشیدگی کی صورت حال ہے اور سعودی عرب کے مختلف مقامات پر ایران کی جانب سے حملے کیے جاچکے ہیں۔

سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک اس جنگ سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں اورآئل فیلڈز پر حملوں سمیت آبنائے ہرمز کی بندش سے معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر مذاکرات ہو رہے ہیں، جس کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ہیں۔

متعلقہ

Load Next Story