امریکی فوجی کمانڈرز ایران جنگ کو مذہبی رنگ دینے لگے، پوپ کی شدید مذمت
پوپ لیو نے مشرق وسطیٰ جنگ کی مذمت کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ امن کے عمل میں مشغول ہوں۔
سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں عبادت کے دوران پوپ لیو نے اگرچہ امریکا کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کیا تاہم ان کا پیغام امریکی حکام اور ٹرمپ کی طرف تھا جنہوں نے اپنی فوجی برتری پر شیخی بھگاری اور مذہب کا استعمال کرتے ہوئے جنگ کو جائز قرار دیا۔
بعد ازاں پوپ لیو نے کہا کہ بس اب انا اور دولت کی بت پرستی بہت ہوگئی۔ بہت طاقت کی نمائش ہوگئی اور بہت جنگ ہوگئی۔
امریکا کی فوجی مذہبی آزادی فاؤنڈیشن نے اعلان کیا تھا کہ اسے مسلح افواج کی مختلف شاخوں کے فوجی اہلکاروں کی طرف سے 200 سے زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا کہ میرینز اور ایئر فورس کے کمانڈرز ایران کے خلاف جنگ کا جواز پیش کرنے کے لیے مذہبی انتہا پسند پر مبنی بیان بازی کا استعمال کررہے ہیں۔