موسم کی بڑھتی شدت؛ گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے لائف اسٹائل بدلیں
ملک میں موسم بدلتے ہی گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی شہریوں کے معمولاتِ زندگی پر بھی واضح اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
اپریل کے مہینے ہی میں درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جانے کے باعث ماہرین صحت اور سماجی حلقوں کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
دن کے اوقات میں تیز دھوپ اور حبس نے نہ صرف گھروں میں رہنے والوں کو متاثر کیا ہے بلکہ دفاتر، بازاروں اور سڑکوں پر کام کرنے والے افراد کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
خاص طور پر رکشہ ڈرائیورز، ڈیلی ویجز ورکرز اور ڈیلیوری بوائز شدید گرمی میں کام کرنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کے اس موسم میں طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلیاں بھی بڑی حد تک صحت کے مسائل سے بچا سکتی ہیں۔
شہریوں کو چاہیے کہ وہ دن کے اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہنیں۔ اس کے علاوہ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھانا بھی جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شدید گرمی کے باعث شہریوں کے لائف اسٹائل میں کچھ مثبت تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
مثال کے طور پر لوگ اب زیادہ سے زیادہ گھریلو سرگرمیوں کو ترجیح دے رہے ہیں، آن لائن شاپنگ میں اضافہ ہوا ہے اور شام کے اوقات میں پارکوں اور ساحلی علاقوں کا رخ بڑھ گیا ہے۔
اسی طرح ٹھنڈے مشروبات، آئس کریم اور روایتی مشروبات جیسے لسی اور شربت کی مانگ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق موسم کا اثر انسان کے مزاج پر بھی پڑتا ہے۔ شدید گرمی چڑچڑے پن، تھکن اور ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں سکون بخش سرگرمیاں شامل کریں جیسے ہلکی ورزش، موسیقی سننا یا اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنا۔
طبی ماہرین کی جانب سے بھی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گرمی کے پیشِ نظر احتیاط کریں اور خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کا خیال رکھیں۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے پیشِ نظر احتیاط ہی بہترین حل ہے۔