امریکا نیٹو چھوڑنے کے قریب؟ یورپ نے اپنا دفاعی نظام بنانے کی تیاری تیز کر دی
واشنگٹن: امریکی اخبار کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے نیٹو سے ممکنہ انخلا کے خدشات نے یورپی ممالک کو متبادل دفاعی حکمت عملی تیز کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک اب ایک نئے تصور ’یورپی نیٹو‘ پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت یورپ خود کمانڈ اور کنٹرول کا بڑا حصہ سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نیٹو اتحاد کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ امریکا کے ممکنہ انخلا کی صورت میں دفاعی تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔
امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ جرمنی کی پالیسی میں بڑی تبدیلی نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات، نیٹو سے نکلنے کے اشارے اور گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی جیسے عوامل نے یورپ میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور یورپ کے درمیان اختلافات نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسی وجہ سے یورپی ممالک فضائی دفاع، لاجسٹکس، انٹیلی جنس اور فوجی قیادت جیسے اہم شعبوں میں خود انحصاری بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت لازمی فوجی سروس کی بحالی اور دفاعی پیداوار میں اضافے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم سب سے بڑا چیلنج امریکی جوہری تحفظ اور سیٹلائٹ و انٹیلی جنس نظام کا متبادل تیار کرنا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فرانس اور جرمنی کے درمیان یورپی جوہری دفاع کے دائرہ کار کو بڑھانے پر ابتدائی بات چیت جاری ہے، جو اس نئی حکمت عملی کا سب سے حساس پہلو تصور کیا جا رہا ہے۔