ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے حق میں وکلا میدان میں آگئے
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے حق میں اسلام آباد کے 400 سے زائد وکلا میدان میں آگئے.
اسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور اسلام ڈسٹرکٹ بار سے تعلق رکھنے والے وکلا نے چار بڑے مطالبات پیش کر دیے۔
وکلا کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں فوری سماعت کے لیے مقرر کی جائیں۔ دوسرے مطالبے میں خواتین وکلا سمیت بار کا وفد دونوں کی جیل سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے وزٹ کرے۔
وکلا نے مطالبہ کیا کہ دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، اس لیے انہیں بی کلاس فراہم کی جائے جبکہ دیگر مقدمات میں فئیر ٹرائل کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے کیونکہ جیل ٹرائل انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
اسلام آباد بار کے 400 سے زائد وکلا کے نمائندگان نے اس حوالے سے قرارداد جمع کرا دی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دونوں وکلا کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ تنہا نہیں بلکہ وکلا برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ دونوں کے خلاف کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے اور آزادی اظہار کے منافی ہے۔ مزید کہا گیا کہ اڈیالہ جیل میں بی کلاس کی سہولیات، ٹی وی، اخبار اور ملاقات کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔
قرارداد کے مطابق دونوں وکلا محروم طبقات کی آواز رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر انسانی حقوق اور انصاف کی بات کرنا جرم نہیں۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے مقدمات وکلا کو ہراساں کرنے اور ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہیں۔