لوڈ شیڈنگ ہونے پر معذرت خواہ ہیں آج رات سے بجلی کی فراہمی بہتر ہوجائے گی، وزیر توانائی
وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پیک آورز میں لوڈ شیڈنگ ہونے پر عوام سے معذرت چاہتے ہیں، آج رات سے بجلی کی سپلائی میں بہتری آجائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے کے حالات کے سبب توانائی کی قلت کا سامنا ہے، گیس نہ آںے کے سبب بجلی کے پاور پلانٹس نہیں چل رہے تاہم پھر بھی دیگر ممالک کی بہ نسبت ہمارے یہاں صورتحال بہتر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ پچھلے کچھ دنوں میں ہی ہوئی ہے ورنہ ہمارے تمام پلانٹس آپریشنل ہیں بس گیس کی قلت کا مسئلہ ہے، ہر سال جو لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اتنی لوڈ شیڈنگ ابھی نہیں ہوئی ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب گیس نہیں مل رہی، دن کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی ہورہی ہے صرف پیک آورز میں ہورہی ہے کیوں کہ ہم پیک آورز میں گیس سے بجلی پیدا نہیں کرسکتے۔
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ڈیموں سے پانی کے کم اخراج کے سبب پن بجلی میں بھی 1530 میگاواٹ کی قلت کا سامنا ہے اور پن بجلی 1675 میگاواٹ رہی، اپریل کے پہلے پندرہ دنوں میں بجلی کی یومیہ طلب 15 سے 20ہزار میگا واٹ رہی اس وقت ہمیں ساڑھے ہزار میگا واٹ بجلی کی قلت کا سامنا ہے، اس وقت کے الیکٹرک ہمارے سسٹم سے ریکارڈ 2160 میگاواٹ بجلی لے رہی ہے جب کہ وہ پہلے ایک ہزار میگاواٹ لیتی تھی۔
اویس لغاری نے کہا کہ ایل این جی نہ ملنے سے تین ہزار میگاواٹ سے زائد کی قلت ہوئی، ایل این جی کو امپورٹ کرنے کی پہلے دن سے کوشش ہے خطے کی صورتحال کے سبب کامیابی نہیں ہورہی تاہم کوششیں جاری ہیں ہمیں جو سفارتی کامیابیاں ملی ہیں اسی سبب ہماری تیل کی سپلائی بند نہیں ہوئی اور امید ہے کہ گیس کی سپلائی بھی بحال ہوجائے گی، اسی طرح تربیلا سے بھی پانی دس کے بجائے بیس تا 25 ہزار کیوسک پانی ریلیز ہوگا تو پن بجلی میں بھی بہتری آجائے گی۔
صحافیوں کے سوالات پر ان کا کہنا تھا کہ ایل این جی سے گزشتہ سال 3000 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہورہی تھی، آبنائے ہرمز بند ہے گیس نہیں آرہی تو کون ذمہ دار ہے؟ بارشیں اللہ کے حکم سے ہوتی ہیں، پانی کم آرہا ہے پن بجلی نہیں بن رہی تو کون ذمہ دار ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ یکم اپریل سے گیس کی درآمد بند ہے، آج کی رات بجلی کی صورتحال کل سے بہتر ہوگی اور امید ہے ہر اگلے روز صورتحال میں بہتری ہی آئے گی۔
ایک سوال پر انہوں ںے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کا ایکوریٹ شیڈول جاری نہیں کرسکتے روزانہ بجلی کی پیداوار تبدیل ہوتی رہتی ہے، پانی زیادہ آیا تو لوڈ شیڈنگ کم ہوجائے گی، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو کہا ہے کہ لوڈ شیڈنگ جتنی بھی گھنٹے کی ہو ایک گھنٹے کے وقفے سے کریں تاکہ عوام کو پریشانی کم سے کم ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ دو سال کے اندر بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی جس کے سبب بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہوگیا۔ا