گوگل کا پنجاب میں طلبہ کے لیے بڑا اعلان، مریم نواز نے بھی خوشخبریاں سنا دیں
گوگل کی جانب سے پنجاب میں طلبہ کے لیے اہم اعلان کردیا گیا جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے بھی بڑی خوشخبریاں سنا دی گئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں اسکول اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے پراجیکٹس پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں طلبہ کی فلاح اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گوگل پنجاب میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو گوگل سرٹیفکیشن کورسز مفت کرائے گا ۔ اس سلسلے میں طلبہ سے 400 سے ایک ہزار ڈالر تک کی فیس نہیں لی جائے گی۔ علاوہ ازیں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو سائبر سیکیورٹی، اے آئی، بزنس انٹیلی جنس اور 3 سے 6 ماہ کے دیگر کورسز بھی کرائے جائیں گے۔
اجلاس میں پنجاب کے 98 فیصد طلبہ کی جانب سے سی ایم پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم پر بھرپور اظہار اطمینان کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ نے منیارٹی طلبہ کو مساوی بنیادوں پر اوپن میرٹ پر لیپ ٹاپ دینے کی ہدایت کی۔
سی ایم پنجاب لیپ ٹاپ پروگرام فیز ون میں 38 ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہوئے، جبکہ فیز ٹو کے لیے ایک لاکھ 42 ہزار طلبہ نے درخواستیں جمع کرائیں۔ اس مرحلے میں بصارت سے محروم اور دیگر اسپیشل طلبہ کو بھی اسکالرشپ دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہونہار اسکالرشپ کے لیے تمام اہل طلبہ کو وظیفہ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یکمشت 62 ہزار 949 طلبہ کو ہونہار اسکالرشپس دی جائیں گی۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 30 ہزار طلبہ کے لیے سمری پیش کی تھی تاہم اس دائرہ کار کو بڑھایا گیا۔
فیز ون میں پنجاب کے 262 سرکاری کالجز کے 5 ہزار 282 طلبہ کے لیے 23 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ فیز ٹو میں 200 کالجز کے 4 ہزار 310 طلبہ کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے کی اسکالرشپس رکھی گئی ہیں، جبکہ 365 گریجویٹ طلبہ کو 25 ہزار روپے کی اسکالر بھی دی جائیں گی۔
اجلاس میں پنجاب کے تمام کامرس کالجز کو یونیورسٹیوں سے الحاق کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس کے تحت 29 اضلاع کے 36 کامرس کالجز کو 19 سرکاری یونیورسٹیوں سے منسلک کیا جائے گا اور ہر کالج کا اپنے ضلع کی سرکاری یونیورسٹی سے الحاق کیا جائے گا۔
ان اداروں میں بزنس، اکاؤنٹ، فنانس، بینکنگ، آئی ٹی اور ای کامرس سے متعلق بی ایس کے 14 ڈسپلن پڑھائے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب میں پہلی مرتبہ کالجز ایجوکیشن کی اسٹینڈرڈ رائزیشن کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے کالجز میں پرنسپل، اساتذہ اور اداروں کے لیے کے پی آئیز مقرر کرنے کی منظوری دی، جبکہ سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی کارکردگی کا تعین بھی انہی پیمانوں کے مطابق کیا جائے گا۔
مزید برآں پنجاب کے 166 سرکاری کالجز میں نئی اور جدید ترین آئی ٹی لیبز بنانے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں طلبہ کے لیے سہولیات میں اضافے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کالج طلبہ کے لیے الیکٹروبس فیسلیٹی کی منظوری دی اور سرگودھا سمیت دیگر اسکولوں میں بہتری کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت جاری کی۔
اجلاس کے دوران پیکٹا کے تحت گریڈ 8 اسسمنٹ امتحانات میں 9 لاکھ 94 ہزار طلبہ کی شرکت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں طالبات کی کامیابی کا تناسب 92 فیصد جبکہ طلبہ کا تناسب 84 فیصد رہا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پہلی 3 پوزیشنیں طالبات کو ملنے پر اظہار اطمینان بھی کیا۔