جہلم: انجنئیر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ، جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی
صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے تھانہ سٹی کی حدود میں انجینیئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ کرنے والا ملزم جوابی کارروائی میں مارا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جی ٹی ایس چوک میں واقع قرآن ریسرچ اکیڈمی کے باہر فائرنگ کی گئی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک ہوگیا جب کہ پولیس ملازم زخمی ہوا۔
واقع کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ چکی ہے، مسلح حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ شروع کر دی۔
جہلم پولیس نے کہا کہ نامعلوم حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا، ملزم کی تاحال شناخت نہیں ہوئی ہے۔
جہلم پولیس کے ترجمان کاشف کیانی نے بتایا کہ انجینئر محمد علی مرزا قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی کے باہر تھے جہاں وہ لیکچر دیتے ہیں جب کہ ایک شخص 9 ایم ایم پستول لے کر احاطے میں آیا، زمین پر لیٹ گیا اور فائرنگ کر دی۔
جہلم کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) چوہدری شفیق نے بتایا کہ پولیس نے جوابی فائرنگ کی جس سے حملہ آور موقع پر ہی مارا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے دوران انجینئر محمد علی مرزا محفوظ رہے۔
کاشف کیانی نے اس بات کی تصدیق کی کہ حملے کے دوران عالم دین کی سیکیورٹی ٹیم میں شامل ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔ کانسٹیبل کے پاؤں میں گولی لگنے سے جسے جہلم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ایس ایس پی چوہدری شفیق جو کہ حملے کے وقت سیکیورٹی تعینات تھے متحرک تھے اور مزید سخت کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور کی شناخت کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے مدد لی جائے گی۔