خیبرپختونخو اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر و اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ

ایکٹ کی صوبائی اسمبلی سے منطوری کے بعد اسے کابینہ میں مںطوری کے لیے بھیجا جائے گا، ذرائع

فوٹو: فائل

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ فنانس کمیٹی کی مںظوری کے بغیر کرنے کے اقدام کو آئین سے متصادم قرار دینے کے بعد ترمیمی ایکٹ تیار کرلیا گیا جو آج اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ ا ایکٹ کے ذریعے کیا جاتا تھا اور اس کی منظوری ایوان سے لی جاتی تھی۔

ذرائع نے اس حوالے سے بتایا کہ جب اس تحریک کا جائزہ لیا گیا تو تنخواہوں میں اضافے کو آئین کے آرٹیکل 88 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، آرٹیکل 88 اور آرٹیکل 127 کے تحت اسمبلی کے اخراجات پر مالیاتی کمیٹی کا کنٹرول ہوگا۔

ذرائع نے بتایا کہ چونکہ تنخواہیں بھی مالیاتی امور کے زمرے میں آتی ہیں تو اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور اراکین کی تنخواہیں اور الاؤنس بھی اسمبلی کے اخراجات میں شامل ہیں، مذکورہ آرٹیکل کے تحت تنخواہوں اور الاؤنس کی شرح کا تعین فنانس کمیٹی کرے گی۔

اس ضمن میں مزید بتایا گیا کہ مذکورہ نشان دہی کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں، مراعات اور استحقاق ایکٹ 1975 میں ترمیم تیار کرلی گئی ہے جو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

صوبائی حکومت کی مجوزہ ترمیم کے تحت تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا اختیار فنانس کمیٹی کے پاس ہوگا اور ایکٹ کی منطوری کے بعد اسے کابینہ میں مںطوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

Load Next Story