آبنائے ملاکا ایشیا کا معاشی پھیپھڑا ہے

ساتویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر یوکوسوکا (جاپان) امریکی بحریہ کا بیرونِ ملک سب سے بڑا فارورڈ بیس ہے

ساتویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر یوکوسوکا (جاپان) امریکی بحریہ کا بیرونِ ملک سب سے بڑا فارورڈ بیس ہے۔ساتواں بیڑہ اوکی ناوا اور سیسیبو (جاپان) کے علاوہ سنگاپور کا نیول بیس بھی استعمال کر سکتا ہے۔ مغربی بحرالکاہل سے بحرِ ہند کے افریقی ساحل تک کے وسیع پانیوں کی نگرانی پر مامور ساتویں بیڑے کا بنیادی کام چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت اور سب سے گنجان آبنائے ملاکا پر نظر رکھنا ہے۔

دنیا کی پانچ بڑی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہوں میں سے چار آبنائے ملاکا کے آس پاس قائم ہیں۔ سب سے بڑی ٹرانس شپمنٹ پورٹ سنگاپور عین آبنائے کے دہانے پر ہے۔اس پورٹ پر دو سو جہاز راں کمپنیوں کا سامان پہنچتا ہے اور پھر یہ سامان دنیا بھر میں چھ سو مختلف بندرگاہوں تک بھیجا جاتا ہے۔سنگاپور کے آمنے سامنے ملائشیا کی ٹرانس شپمنٹ پورٹ کلانگ واقع ہے۔ جنوبی کوریا کی بوسان ٹرانس شپمنٹ پورٹ اور مصروف ترین عالمی بندرگاہ شنگھائی کی سانسوں کا دار و مدار بھی آبنائے ملاکا کی بلارکاوٹ ٹریفک پر ہے۔

یہ آبنائے بحر ہند کو بحیرہ جنوبی چین سے جوڑتی ہے۔نو سو کلومیٹر ( پانچ سو ساٹھ میل ) طویل یہ آبی گذرگاہ ملائشیا ، سنگاپور اور انڈونیشیا کی حدود چھوتی ہے۔ کہیں اس کی چوڑائی ڈھائی سو کلومیٹر اور ایک جگہ محض دو اعشاریہ آٹھ کلومیٹر ہے۔کہیں اس کی گہرائی ساڑھے چھ سو فٹ تو کہیں ایک سو بیس فٹ ہے۔چنانچہ جہازوں کو وزن اور حجم کے حساب سے آبنائے کے ٹریکس سے پائلٹ کشتیوں کی رہنمائی میں گذارا جاتا ہے۔

اس راستے سے سالانہ پچانوے ہزار تک مال بردار جہاز اور آئل ٹینکر گذرتے ہیں۔سالانہ بیس فیصد عالمی گیس اور روزانہ دو کروڑ بتیس لاکھ بیرل تیل سمیت دنیا کی چالیس فیصد بحری تجارت اسی آبنائے کے ذریعے ہوتی ہے۔چین ، ہانگ کانگ ، تائیوان ، جاپان ، جنوبی کوریا ، فلپینز ، ویتنام ، انڈونیشیا ، تھائی لینڈ اور بھارت سمیت کونسی ایسی ایشیائی اقتصادی طاقت ہے جو آبنائے ملاکا کے بغیر ایک ماہ بھی رہ سکے۔

مصروف ترین گذرگاہ ہونے کے سبب بحری قزاق بھی متحرک رہتے ہیں اور یہ روائیت بھی صدیوں پرانی ہے۔تاہم سن دو ہزار تا دو ہزار پانچ کے درمیان علاقائی ممالک نے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے قزاقی کے رجحان کا خاصی حد تک قلع قمع کر دیا ہے۔

آبنائے ملاکا کی تجارتی طاقت آس پاس کی سیاست و معیشت پر صدیوں سے اثرانداز ہے۔ ساتویں سے تیرہویں صدی تک یہاں جاوا ، سماٹرا اور ملائیشیا پر مشتمل بدھسٹ سری وجیا سلطنت کا ڈنکا بحتا رہا۔ اس سلطنت کا دارالخلافہ سماٹرا کا تاریخی شہر پالمبانگ تھا۔طویل ساحل کے ساتھ ساتھ عرب ، ایرانی اور چینی تاجروں کے لیے سرائیں قائم تھیں۔ سری وجیا راجاؤں کا آبنائے ملاکا پر مکمل کنٹرول تھا اور اس گذرگاہ کی ٹرانزٹ فیس ریاستی آمدنی کا بنیادی ستون تھی۔ تب ملاکا شہر جنوب مشرقی ایشیا کی مصروف ترین علاقائی بندرگاہ تھا (آج یہ شہر ریٹائرمنٹ کے دن کاٹ رہا ہے )۔

پھر جیسا کہ ہوتا ہے۔آپسی خانہ جنگی میں سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی۔یعنی ریاست آچے (سماٹرا ) اور ریاستِ جوہور ( ملیشیا )۔عرب تاجروں اور مبلغوں کی مسلسل آمد کے سبب مقامی بودھ اور ہندو آبادی مسلمان ہوتی چلی گئی۔تاہم مقامی تجارت پر پرانے خاندانوں کا ہی کنٹرول برقرار رہا۔فرق بس اتنا پڑا کہ ان خاندانوں کا مذہب بدل گیا۔

سولہویں صدی میں پرتگیزی سامراج نے پہلے افریقہ ، پھر ایشیا اور پھر مشرقِ بعید کا رخ کیا۔تاجر تو یہ بھی تھے مگر ان کے ہاتھ میں تلوار کے علاوہ توپ اور بارود کی اضافی تباہ کن طاقت تھی۔ پرتگیزیوں نے پہلے انڈیا دریافت کیا۔پھر یورپ اور انڈیا کے درمیان کی گذرگاہ خلیجِ فارس کے جزائر پر قلعہ بندیاں کیں۔ لنکا پر قبضے کے بعد ملاکا تک جا پہنچے۔ان کے پیچھے پیچھے برطانوی ، فرانسیسی ، ولندیزی چل پڑے اور آپس میں مقبوضات کی چھینا جھپٹی شروع ہو گئی۔برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے پرتگالیوں سے عدن اور خلیجِ فارس کے قلعے چھینے ۔فرانسییسوں نے انڈو چائنا (ویتنام ، لاؤس کمبوڈیا ) پر جھنڈا گاڑ لیا۔ولندیزیوں نے سولہ سو چالیس عیسوی میں آبنائے ملاکا کی ناکہ بندی کر کے آچے ریاست پر قبضہ کر لیا اور پرتگالیوں سے ملاکا کا تجارتی شہر بھی چھین لیا۔

سترہ سو چھیالیس میں انگریز سامراج بھی اس علاقے میں گھس آیا اور ملائشیا کے شمال مغربی ساحل پر بندرگاہ تعمیر کی جسے آج پینانگ کہا جاتا ہے اور یہاں چینی نژاد ملیشیائیوں کی اکثریت ہے۔

اٹھارہ سو چویس میں ولندیزیوں اور انگریزوں نے نوآبادیاتی بندر بانٹ پر سمجھوتہ کر لیا۔ اس کے تحت سماٹرا اور جاوا ( موجودہ انڈونیشیا ) پر ولندیزی اقتدار تسلیم کر لیا گیا۔ برطانویوں کو ملائیشیا اور سنگاپور مل گیا۔اٹھارہ سو سڑسٹھ میں سنگاپور میں بندرگاہ اور فوجی چھاؤنی کی تعمیر شروع ہوئی اور اسے کراؤن کالونی کا درجہ دے دیا گیا۔

سترہ اگست انیس سو پینتالیس کو انڈونیشیائی حریت پسندوں نے احمد سوئیکارنو کی قیادت میں آزادی کا اعلان کر کے لگ بھگ تین سو برس سے مسلط ولندیزیوں کو نکال باہر کیا جو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر انڈونیشیا سے جاپانی قبضہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ آ دھمکے تھے۔

اکتیس اگست انیس سو ستاون کو ملیشیا نے برطانوی سامراج سے نجات پائی۔سنگاپور تب تک ملائشیا کا حصہ تھا۔مگر مقامی ملاکا اور چینی آبادی میں نسلی کشیدگی کے سبب سنگاپور کو علیحدہ ہونے کی اجازت مل گئی اور سات اگست انیس سو پینسٹھ کو سنگاپور ایک آزاد ریاست بن گیا۔وزیرِ اعظم لی کوان یو کی قیادت میں سنگاپور نے تیزرفتار ترقی کی۔آج وہ جنوب مشرقی ایشیا میں بحری تجارت ، بینکاری اور گورنننس کا اہم مرکز ہے۔

 ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب بحیرہ منجمد شمالی کی برف پگھل رہی ہے اور ایشیا اور یور پ کے مابین ایک نیا شمالی راستہ ( آرکٹک روٹ ) کھلنے سے یورپ اور مشرقی ایشیا کے مابین نہ صرف تجارتی فاصلے ہزاروں کلومیٹر کم ہو جائیں گے بلکہ تجارتی جہازوں کو آبنائے ملاکا ، باب المندب اور نہر سویز کی بحرانی بے یقینی سے نجات بھی مل جائے گی۔

دو ہزار سولہ میں پہلی بار چین کی معروف شپنگ کمپنی کوسکو کے پانچ مال بردار جہازوں نے بحیرہ آرکٹک کے راستے بلجئیم ، جرمنی اور برطانیہ تک چینی سامان لے جانے کا کامیاب سفر کیا۔نئے تجارتی راستے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے چین نے روس اور شمالی کوریا سے متصل سرحدی علاقے ہونچون میں ایک نئے ’’ سنگاپور ‘‘ کی بنیاد رکھ دی ہے۔یہاں سے آرکٹک روٹ کے راستے چینی سامان بھیجا جائے گا۔

البتہ فی الحال اگلے کئی برس تک نہ سنگاپور کی تجارتی اہمیت کو خطرہ ہے اور نہ ہی آبنائے ملاکا بے وقعت ہونے والی ہے۔کل کی کل دیکھی جائے گی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

Load Next Story