برطانیہ کا بڑا اعلان، ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی تیاری
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے قانون سازی کرے گی۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق اس مجوزہ اقدام کا مقصد ایران کی مذہبی حکومت کے ناقدین اور مختلف یہودی گروہوں کے مطالبات کو پورا کرنا ہے، جو طویل عرصے سے اس تنظیم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو یہ برطانیہ کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب کسی خودمختار ملک کی باقاعدہ مسلح فورس کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا جائے گا۔ اس سے قبل برطانیہ میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت صرف غیر ریاستی تنظیموں کو ہی دہشتگرد قرار دیا جاتا رہا ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین پہلے ہی فروری میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کر چکا ہے، جس کے بعد برطانیہ کا یہ ممکنہ اقدام مغربی ممالک کی پالیسی میں مزید ہم آہنگی پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے خطے کی سیاست، سفارتی تعلقات اور سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور مغربی دنیا کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔