’معاملےکو متعلقہ فورم پر ہی رہنے دیا جائے‘، سی ڈی اے آپریشن رکوانے سے متعلق استدعا مسترد
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام آباد کے علاقے بری امام میں سی ڈی اے آپریشن رکوانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس کی سربراہی جسٹس عامر فاروق نے کی۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے آپریشن روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم پر ہی زیرِ سماعت رہنے دیا جائے۔
سماعت کے دوران وکیلِ علاقہ مکین نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ہائی کورٹ سے فیصلہ آنے تک کارروائی جاری رہی تو تمام گھر مسمار ہو جائیں گے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بغیر عدالت کی آبزرویشنز کے قانونی راستہ اختیار کیا جائے اور غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج کا مینڈیٹ کمیٹیاں بنانے کا نہیں ہوتا اور یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایک جج چیمبر میں کمیٹی کس قانون کے تحت بنا سکتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر سی ڈی اے پہلے ہی کمیٹی بنا چکا ہے تو اس میں عدالتی مداخلت کا جواز محدود ہے۔ وکیل کی جانب سے ہائی کورٹ کو جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کی استدعا بھی کی گئی، تاہم عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ متعلقہ قانونی فورم پر ہی چلایا جائے۔
بعد ازاں عدالتی آبزرویشنز کے بعد بری امام کے مکینوں کی جانب سے دائر درخواست واپس لے لی گئی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بری امام رہائشیوں نے ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں سنگل بینچ کے آپریشن روکنے کے حکم کو معطل کیا گیا تھا۔