افغان طالبان کی انگور اڈہ میں گولہ باری سے 8 شہری زخمی ہوئے، حملے کی تفصیلات جاری
فوٹو: فائل
افغان طالبان رجیم نے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں سول آبادی پر بزدلانہ حملہ کیا، جنوبی وزیرستان کے علاقے انگوراڈہ میں 26 اور 29 اپریل کو افغان طالبان نے سول آبادی پر فائرنگ اور گولہ باری کی۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر نے افغان طالبان رجیم کی گولہ باری سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کردیں۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ افغان طالبان کی اشتعال انگیزی سے متعدد گھر تباہ، بچوں اور خواتین سمیت 8 افراد شدید زخمی ہوئے، افغان طالبان کے حملے کے زخمیوں کو فوری طبی امداد کے بعد ڈی آئی خان اور پشاور منتقل کردیا گیا۔
مقامی افراد اورقبائلی مشران کی جانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کی مذمت کی گئی، انگوراڈہ کے مقامی افراد نے مطالبہ کیاہے کہ افغانستان سے فائرنگ اور گولہ باری کو فوری بند کیا جائے۔
افغان طالبان اور ان سے وابستہ خوارج دہشت گرد مذموم عزائم کے حصول کیلئے مسلسل عام عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
قبل ازیں سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ افغان طالبان نے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ سے ملحقہ سرحدی علاقے میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری کی، 29 اپریل 2026 کو افغان طالبان کی جانب سے ایک بار پھر انگور اڈہ سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں مارٹر گولا فائر کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مارٹر گولہ مقامی شہریوں کریم خان اور رحمت اللہ کے گھر پر آ گرا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے، میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشفاق کے مطابق ہسپتال میں3 بچوں سمیت5زخمی لائے گئے ہیں۔
متاثرہ شخص نور علی کے مطابق گولہ اچانک گھر پر آ گرا جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا، ایک اور متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا گھر لرز اٹھا۔
اہل علاقہ نے کہا کہ سرحد پار سے گولہ باری میں عام شہری، خصوصاً بچے نشانہ بن رہے ہیں جس سے خوف کی صورتحال برقرار ہے، افغان طالبان کی طرف سے پاکستان کی سول آبادی کو مسلسل نشانہ بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فتنے کاانسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔